نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پروجیکٹ سے مارچ 2028 تک بجلی کی پیداوار بحال ہونے کا امکان

نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پروجیکٹ سے مارچ 2028 تک بجلی کی پیداوار بحال ہونے کا امکان

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل کو مطلع کیا گیا ہے کہ اپریل 2024 سے ٹنل (سرنگ) بیٹھ جانے کے باعث بند 500 ارب روپے سے زیادہ مالیت کا نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پروجیکٹ تقریباً 4 سال کی بندش کے بعد مارچ 2028 تک دوبارہ بجلی کی پیداوار شروع کر سکتا ہے۔

سینیٹر جام سیف اللہ خان کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل (ر) محمد سعید نے نائی گج ڈیم منصوبے میں 23 ارب روپے کے فراڈ کا انکشاف بھی کیا، جبکہ کمیٹی نے ملک بھر بالخصوص پنجاب میں زیرِ زمین پانی کی شدید قلت پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔

نیلم جہلم پروجیکٹ کی بحالی اور تحقیقات

چیئرمین واپڈا نے کمیٹی کو بتایا کہ سرنگ کے مسائل کے باوجود نیلم جہلم پروجیکٹ ایک کامیاب منصوبہ رہا ہے، جس نے سستی بجلی کی فراہمی کے ذریعے اپنی لاگت کا تقریباً 80 فیصد حصہ پہلے ہی وصول کر لیا ہے۔

چیئرمین واپڈا کا مؤقف

سرنگ کی خرابی کی تحقیقات جاری ہیں۔ منصوبے کے آغاز سے پہلے ہی یہ رپورٹس موجود تھیں کہ یہ علاقہ زلزلوں کی زد میں ہے، تاہم واپڈا اس منصوبے کو بحال کرنے کے لیے پرعزم ہے اور مارچ 2028 تک بجلی کی پیداوار دوبارہ شروع کر دی جائے گی۔‘

یہ بھی پڑھیں:انڈس واٹر معاہدہ،ہم خود پانی کے ذخائر بنا سکتے ہیں نہ اس کی صلاحیت ہے، پراوین ساہنی کی حکومتی فیصلے پر تنقید

سینیٹ کمیٹی نے زور دیا کہ ٹنل گرنے کی وجوہات اور منصوبے کی لاگت میں اضافے کی شفاف اور خود مختار انکوائری ہونی چاہیے۔

سینیٹر سیف اللہ نے وزارتِ آبی وسائل کے حکام کو یقین دلایا کہ مستقبل کے قومی بنیادی ڈھانچے کے تحفظ اور احتساب کو یقینی بنانے کے لیے کمیٹی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی مکمل حمایت کرے گی۔

نائی گج ڈیم میں 23 ارب روپے کا فراڈ

اجلاس کے دوران نائی گج ڈیم منصوبے پر بات کرتے ہوئے چیئرمین واپڈا نے سنسنی خیز انکشاف کیا کہ 2009 میں اصل ٹھیکیدار نے جعلی بینک گارنٹی جمع کرائی تھی، جس سے قومی خزانے کو تقریباً 23 ارب روپے کا مالی نقصان اٹھانا پڑا۔

 انہوں نے بتایا کہ اب مذکورہ ٹھیکیدار کا معاہدہ منسوخ کر کے اسے بلیک لسٹ کر دیا گیا ہے اور یہ معاملہ اس وقت سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت ہے۔

کمیٹی نے وزارت کے مؤقف کی توثیق کرتے ہوئے احتساب کو یقینی بنانے اور منصوبے کی جلد تکمیل پر زور دیا، جو کہ 28 ہزار ایکڑ اراضی کو سیراب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ملک گیر واٹر کرائسز اور ڈیموں کی کمی

چیئرمین واپڈا نے خبردار کیا کہ پاکستان کو اپنی بقا کے لیے پانی کے چیلنجز کو سنجیدگی سے لینا ہوگا کیونکہ پاکستان دنیا کے سب سے زیادہ پانی کی قلت کا شکار ممالک میں شامل ہو چکا ہے۔

مزید پڑھیں:وفاقی بجٹ 2026-27 ، حجم 18 ہزار 771 ارب روپے مقرر،ملازمین کی تنخواہوں ، پنشن میں اضافہ،قومی دفاع کے لیے 3 ہزار ارب روپے مختص

انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ پاکستان میں منگلا اور تربیلا ڈیموں کی تعمیر کے بعد گزشتہ 5 دہائیوں سے کوئی بڑا ڈیم نہیں بنایا گیا۔ اس کے برعکس، پڑوسی ملک بھارت نے اس عرصے کے دوران ہزاروں چھوٹے اور بڑے ڈیم تعمیر کر لیے ہیں۔

چاروں صوبوں میں زیرِ زمین پانی کی صورتحال

کمیٹی کو ملک بھر میں زیرِ زمین پانی کی گرتی ہوئی سطح پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، جس کی صوبہ وار صورتحال درج ذیل ہے

پنجاب

اوکاڑہ، وہاڑی، ساہیوال، ملتان اور لاہور سمیت کئی اضلاع میں پانی کا ضرورت سے زیادہ اخراج جاری ہے جس سے پانی کی سطح خطرناک حد تک گر گئی ہے۔ کمیٹی نے زراعت کے تحفظ کے لیے پانی کے تحفظ کے بین الاقوامی طریقوں اور جدید آبپاشی تکنیکوں کو اپنانے کی ہدایت کی۔

سندھ

 صوبائی حکام نے بتایا کہ سندھ کا 80 فیصد زیرِ زمین پانی کھارا (نمکین) ہو چکا ہے۔ صوبے میں زیرِ زمین پانی کے حوالے سے قانون سازی کا مسودہ تیار کیا جا رہا ہے۔ سینیٹر سیف اللہ نے سندھ حکومت کو ہدایت کی کہ وہ اس مسودے کو جائزے کے لیے کمیٹی کے سامنے پیش کرے۔

خیبر پختونخوا

 حکام نے اعتراف کیا کہ ’پیزومیٹر‘ آلات نصب نہ ہونے کی وجہ سے صوبے میں زیرِ زمین پانی کا اب تک کوئی جامع جائزہ نہیں لیا جا سکا۔

بلوچستان

 صوبائی حکام نے رپورٹ دی کہ بلوچستان کے 18 زیرِ زمین آبی بیسنز میں پانی کا سالانہ اخراج دستیاب وسائل سے تجاوز کر چکا ہے، جس سے شدید خسارہ پیدا ہو رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:گریڈ ایک سے16 تک کےملازمین کی تنخواہوں میں کتنا اضافہ ہوگا ؟تفصیلات سامنے آگئیں

صوبے میں اب واٹر مانیٹرنگ، ریچارج ڈیموں کی تعمیر اور جی آئی ایس  پر مبنی سپورٹ سسٹم پر کام شروع کیا جا رہا ہے۔

فنڈز کی کمی پر کمیٹی کا اظہارِ تشویش

کمیٹی کو ہنگول ڈیم، ہارپو ڈیم، کچھی کینال، آر بی او ڈی۔I اور آر بی او ڈی۔III سمیت کئی دیگر بڑے آبی منصوبوں اور سیم و تھور کے مسائل پر بھی اپڈیٹس دی گئیں۔

رواں مالی سال کے لیے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے فنڈز کا جائزہ لیتے ہوئے کمیٹی نے پانی اور بجلی کے منصوبوں کے لیے فنڈز کی شدید قلت پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔

Related Articles