وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت پارلیمان ہاؤس میں وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں آئندہ مالی سال کے بجٹ اور مالیاتی بل کے مسودے کی منظوری دے دی گئی۔
اجلاس کے دوران سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں سات فیصد اضافے کی بھی منظوری دی گئی، جسے حکومتی سطح پر ملازمین کے لیے ایک اہم اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق تنخواہوں میں اضافے کا طریقۂ کار مختلف درجات کے ملازمین کے لیے جداگانہ ہوگا، بتایا گیا ہے کہ گریڈایک سے16تک کے ملازمین کو نسبتاً زیادہ ریلیف فراہم کیا جائے گا تاکہ کم آمدنی والے سرکاری ملازمین کو مہنگائی کے اثرات سے کچھ حد تک تحفظ مل سکے، اس اضافے کے نفاذ کے لیے مرحلہ وار طریقہ اختیار کیے جانے کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ حکومت اپنا تیسرا بجٹ پیش کرنے جا رہی ہے اور توقع ہے کہ یہ بجٹ ملکی معیشت کو مزید استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن کرے گا،انہوں نے کہا کہ حکومت نے مختلف معاشی مشکلات اور مالی دباؤ کے باوجود عوام دوست بجٹ تیار کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔
وزیراعظم نے عوام کے صبر و تحمل کو سراہتے ہوئے کہا کہ گزشتہ برسوں میں مہنگائی کی بلند شرح نے شہریوں کو شدید مشکلات سے دوچار کیا۔
حکومتی اقدامات کے نتیجے میں مہنگائی کی شرح میں نمایاں کمی آئی اگرچہ خطے میں حالیہ کشیدہ صورتحال کے باعث بعض معاشی اثرات مرتب ہوئے ہیں، لیکن مجموعی طور پر ملکی معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے۔
شہباز شریف نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت عام آدمی کو درپیش مسائل سے بخوبی آگاہ ہے اور بجٹ کی تیاری کے دوران عوامی مشکلات کو مدنظر رکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور متبادل ذرائع پر توجہ وقت کی اہم ضرورت ہے،شمسی، ہوائی اور توانائی ذخیرہ کرنے والی جدید سہولتوں کے فروغ سے نہ صرف توانائی کے مسائل کم ہوں گے بلکہ درآمدی ایندھن پر انحصار میں بھی کمی آئے گی۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ ملک کی زرعی اور معاشی ضروریات پوری کرنے کے لیے پانی کے ذخائر میں اضافہ ناگزیر ہے،اس مقصد کے لیے نئے آبی ذخائر اور ڈیموں کی تعمیر پر خصوصی توجہ دی جائے گی تاکہ مستقبل میں پانی اور توانائی کے چیلنجز سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔
سرکاری ملازمین کی جانب سے حالیہ دنوں میں تنخواہوں اور مراعات میں بڑے اضافے کے مطالبات سامنے آئے تھے، تاہم وفاقی کابینہ کی جانب سے سات فیصد اضافے کی منظوری کے بعد اب بجٹ تقریر میں اس حوالے سے مزید تفصیلات سامنے آنے کا امکان ہے۔