امریکا نے ایران پر دباؤ مزید بڑھاتے ہوئے نئی اقتصادی پابندیوں کا اعلان کر دیا ہے، جن کے تحت ایک نمایاں ایرانی کاروباری شخصیت، متعدد کرنسی ایکسچینج ہاؤسز، ان کے منتظمین اور کئی فرنٹ کمپنیوں کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کر لیا گیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ کے دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول (او ایف اے سی) نے دبئی میں مقیم ایرانی کاروباری شخصیت علی انصاری کو بھی پابندیوں کا نشانہ بنایا ہے۔ امریکی حکام کا الزام ہے کہ وہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای اور دیگر اعلیٰ حکومتی شخصیات کے لیے عالمی مالیاتی نیٹ ورک چلا رہے تھے۔
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق علی انصاری نے سرکاری دولت کو بیرونِ ملک جائیدادوں اور تجارتی اثاثوں میں منتقل کیا اور جرمنی، برطانیہ، اسپین، قبرص، متحدہ عرب امارات سمیت مختلف ممالک میں مالی اور کاروباری نیٹ ورک قائم کیا، جس سے ایرانی حکمران اشرافیہ اور اسلامی انقلابی گارڈ کور کے مالی مفادات کو تقویت ملتی رہی۔
امریکا نے محمد دربانی اینڈ پارٹنرز، لواسانی اینڈ پارٹنرز اور محسن خندان اینڈ پارٹنرز سمیت تین کرنسی ایکسچینج ہاؤسز، ان کے منتظمین اور ان سے وابستہ متعدد کمپنیوں پر بھی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان اداروں نے پابندیوں کا سامنا کرنے والے ایرانی بینکوں کے لیے کروڑوں ڈالر کے غیر ملکی زرِ مبادلہ کا انتظام کیا اور مختلف ممالک میں قائم شیل کمپنیوں کے ذریعے مالی لین دین کو خفیہ رکھا۔
محکمہ خزانہ کے مطابق علی انصاری نے اپنی دولت کا بڑا حصہ آیندہ بینک کے ذریعے حاصل کیا جو 2025 میں اربوں ڈالر کے قرضوں کے باعث منہدم ہو گیا تھا۔ ان سے منسلک بعض اثاثے اسمارٹ گلوبل لمیٹڈ نامی ہولڈنگ کمپنی کے ذریعے رکھے گئے تھے تاہم اس کمپنی سے متعلق بعض لین دین مکمل کرنے کے لیے محدود اجازت بھی جاری کی گئی ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پگوٹ نے کہا کہ نئی پابندیوں کا مقصد ایران کی حکمران اشرافیہ کی مالی صلاحیت کو محدود کرنا، غیر ملکی زرِ مبادلہ تک اس کی رسائی کم کرنا اور عالمی مالیاتی نظام میں اس کی سرگرمیوں کو روکنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کے لیے غیر قانونی مالی اور تجارتی سرگرمیوں میں معاونت کرنے والے افراد، کمپنیوں اور مالیاتی اداروں کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔
یاد رہے کہ چند روز قبل بھی ٹرمپ انتظامیہ نے جنگ بندی کے بعد جاری کیا گیا وہ عمومی لائسنس منسوخ کر دیا تھا جس کے تحت ایران کو محدود پیمانے پر خام تیل، پیٹرولیم مصنوعات اور پیٹروکیمیکل مصنوعات فروخت کرنے کی عارضی اجازت دی گئی تھی اور اب نئی پابندیوں کے ذریعے تہران پر معاشی دباؤ مزید بڑھا دیا گیا ہے۔