پاکستان میں پریمیم اور ہیوی بائیکس کے شوقین افراد کے لیے ایک بڑی اور خوش آئند خبر سامنے آئی ہے۔ پاکستانی موٹرسائیکل برانڈ ’سوتھاسی‘ نے مقامی مارکیٹ میں جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس 3 نئی پریمیم اور بھاری بائیکس متعارف کروا کر باقاعدہ انٹری دے دی ہے۔
کمپنی نے روایتی سستی بائیکس کے بجائے اعلیٰ کارکردگی والے سیگمنٹ کو نشانہ بناتے ہوئے ’کلاسک 400‘، ’کراس فائر 500‘ اور فلیگ شپ ’کروم ویل 1200 ‘مارکیٹ میں پیش کی ہیں۔
اس اقدام کا مقصد پاکستان میں بین الاقوامی معیار کی موٹرسائیکلیں تیار کرنا اور صارفین کا امپورٹڈ بائیکس پر انحصار کم کرنا ہے۔
چترال کے مکڑی نما جاندار سے منسوب منفرد نام
کمپنی انتظامیہ کے مطابق ’سوتھاسی‘ نام چترال میں پائے جانے والے ایک خاص مکڑی نما جاندار سے لیا گیا ہے اور اسی جاندار کی جھلک کمپنی کے خوبصورت مونوگرام (لوگو) میں بھی واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔
کمپنی کا عزم ہے کہ وہ پاکستان میں موٹرسائیکل کی دنیا کی جدید ترین ٹیکنالوجی متعارف کروائے گی تاکہ مستقبل میں ملک کے اندر ہی عالمی معیار کی ہیوی بائیکس کی مینوفیکچرنگ ممکن ہو سکے۔
’سوتھاسی‘ کا ہدف پاکستان کی روایتی 70 اور 125 سی سی بائیکس کی مارکیٹ نہیں، بلکہ وہ ہائی کیپیسٹی انجن والی پریمیم مارکیٹ پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔
’سوتھاسی‘ کلاسک 400، سجیلا اور روایتی ماڈل
یہ ’سوتھاسی‘ کی پریمیم لائن اپ کا انٹری لیول ماڈل ہے جو ان بائیکرز کے لیے بہترین ہے جو چھوٹی بائیکس سے ہیوی بائیکس کی طرف منتقل ہونا چاہتے ہیں۔
بائیکس کی اہم خصوصیات درج ذیل ہیں
انجن 397 سی سی، فور اسٹروک، سنگل سلنڈر ایئر کولڈ انجن، طاقت 29 ہارس پاور (بی ایچ پی) پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
دیگر خصوصیات
الیکٹرک اسٹارٹنگ سسٹم، فرنٹ پر 280 ملی میٹر اور ریر پر 240 ملی میٹر ڈسک بریکس، اس کے فرنٹ پر 19 انچ اور بیک پر 18 انچ کا بڑا ٹائر دیا گیا ہے جو اسے کلاسک لُک فراہم کرتا ہے۔
’سوتھاسی‘ کراس فائر 500، آسٹرین برانڈ کا اشتراک
یہ بائیک کمپنی کی لائن اپ کے بالکل درمیان میں واقع ہے، جسے آسٹریا کے مشہور موٹرسائیکل برانڈ ’برکسٹن‘ کے تعاون سے پیش کیا گیا ہے۔
اس بائیک کی تکنیکی تفصیلات یہ ہیں
انجن 486 : سی سی، ٹو سلنڈر، فور اسٹروک، واٹر کولڈ انجن (ڈی او ایچ سی، 4 والوز فی سلنڈر)۔
طاقت اور ٹارک: 47 ہارس پاور اور 43 نیوٹن میٹر (این ایم) ٹارک۔
سیکیورٹی اور ٹیکنالوجی
فرنٹ پر 320 ملی میٹر اور ریر پر 240 ملی میٹر ہائیڈرولک ڈسک بریکس، جو بوش کے اینٹی لاک بریکنگ سسٹم (اے بی ایس) سے لیس ہیں۔ اس کے علاوہ الیکٹرانک فیول انجیکشن، ٹریکشن کنٹرول اور سٹین لیس اسٹیل کا ایگزاسٹ بھی اس کا حصہ ہیں۔
سوتھاسی کروم ویل 1200، لائن اپ کا سب سے طاقتور بادشاہ
کروم ویل 1200 ’سوتھاسی‘ کا سب سے بڑا، بھاری اور طاقتور ترین فلیگ شپ ماڈل ہے، جو پریمیم بائیک کے شوقین افراد کا دل جیتنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اسے بھی آسٹریا کے برانڈ برکسٹن کے اشتراک سے بنایا گیا ہے۔
انجن 1222 : سی سی، واٹر کولڈ، فور اسٹروک، ان لائن ٹو سلنڈر انجن۔
طاقت اور ٹارک: 82 ہارس پاور اور 108 نیوٹن میٹر کا زبردست ٹارک۔
بریکنگ سسٹم: فرنٹ پر 2 عدد 310 ملی میٹر ہائیڈرولک ڈسک بریکس (اے بی ایس کے ساتھ) اور بیک پر سنگل 260 ملی میٹر اے بی ایس ڈسک بریک۔
جدید ٹیکنالوجی: الیکٹرانک فیول انجیکشن، بوش اے بی ایس، ٹریکشن کنٹرول، 6 اسپیڈ گیئر باکس اور اینٹی ہاپنگ کلچ کی جدید ترین سہولت۔
قیمتیں اور دستیابی کا شیڈول
’سوتھاسی‘ نے اپنی آفیشل ویب سائٹ پر ان تینوں بائیکس کو لسٹ تو کر دیا ہے، تاہم کمپنی کی جانب سے ابھی تک ان کی باقاعدہ قیمتوں، بکنگ کی تفصیلات یا ڈیلیوری کے ٹائم لائن کا باقاعدہ اعلان نہیں کیا گیا۔ توقع کی جا رہی ہے کہ جلد ہی ان کی قیمتوں سے پردہ اٹھا دیا جائے گا۔
پاکستان میں پریمیم بائیکس کی صورتحال
پاکستان میں اب تک 250 سی سی سے اوپر کی ہیوی بائیکس کی مارکیٹ زیادہ تر بیرون ملک سے امپورٹ کی جانے والی استعمال شدہ یا مہنگی بائیکس پر انحصار کرتی رہی ہے۔
ملک میں چند ایک بین الاقوامی برانڈز ہی آفیشل سپورٹ فراہم کرتے ہیں، جس کی وجہ سے ہیوی بائیکس کے پرزے اور مینٹیننس بہت مہنگی پڑتی ہے۔
ایسے میں سوتھاسی جیسے مقامی برانڈ کا اس پریمیم کیٹیگری میں قدم رکھنا پاکستان کی آٹو موٹو انڈسٹری میں ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔
’سوتھاسی‘ کا 397 سی سی سے لے کر 1222 سی سی تک کی بائیکس کے ساتھ مارکیٹ میں آنا ایک انتہائی جرات مندانہ اور سٹریٹجک اقدام ہے۔
آسٹریا کے برانڈ “برکسٹن” کے ساتھ شراکت داری کر کے کمپنی نے پہلے ہی دن سے بائیکس کے معیار پر صارفین کا اعتماد حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔
پاکستان میں جہاں زیادہ تر کمپنیاں صرف 70 سی سی بائیکس کے گرافکس بدلنے میں مصروف رہتی ہیں، وہاں چترال کے برانڈ نیم کے ساتھ اس ہائی ٹیک انٹری کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔
تاہم اس منصوبے کی کامیابی کا دارومدار دو چیزوں پر ہوگا۔ اول یہ کہ بائیکس کی قیمتیں امپورٹڈ بائیکس کے مقابلے میں کتنی مسابقتی رکھی جاتی ہیں اور دوم یہ کہ کمپنی پاکستان بھر میں اپنے آفیشل تھری ایس (سیلز، سروس، اسپیئر پارٹس) ڈیلرشپ کا نیٹ ورک کتنی جلدی قائم کرتی ہے۔
اگر ’سوتھاسی‘ قیمت اور آفٹر سیلز سروس کے توازن کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہی، تو یہ پاکستان میں ہیوی بائیکس کلچر کو ہمیشہ کے لیے بدل کر رکھ دے گی۔