چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) سینیٹر روبینہ خالد نے سوات کا دورہ کرتے ہوئے مستحق خواتین کو ڈیجیٹل والٹ اور بینظیر فری سم کے حوالے سے آگاہی فراہم کی۔
سینیٹر روبینہ خالد نے ضلع سوات کے علاقوں بری کوٹ، بابوزئی اور مینگورہ میں قائم بی آئی ایس پی تحصیل دفاتر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے مستحق خواتین سے ملاقات کی، ان کے مسائل سنے اور متعلقہ حکام کو فوری حل کے لیے ہدایات جاری کیں اس موقع پر رکن صوبائی اسمبلی مہر سلطانہ ایڈووکیٹ بھی ان کے ہمراہ تھیں۔
چیئرپرسن بی آئی ایس پی نے خواتین بینیفشریز کو ڈیجیٹل والٹ کے محفوظ اور درست استعمال کے حوالے سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ڈیجیٹل والٹ ایکٹیویشن مکمل طور پر مفت ہے، جبکہ امدادی رقم نکلوانے کے لیے سروس چارجز 280 روپے مقرر کیے گئے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ مستحق خواتین کی امدادی رقم ڈیجیٹل والٹ میں محفوظ رہے گی اور انہیں رقم فوری طور پر نکلوانے کی ضرورت نہیں ہوگی، خواتین اپنی سہولت کے مطابق کسی بھی وقت متعلقہ بینک کے مجاز ریٹیلر سے اپنی مکمل رقم وصول کر سکیں گی۔
سینیٹر روبینہ خالد نے خواتین کو ہدایت کی کہ وہ غیر قانونی کٹوتیوں سے بچیں اور اپنی امدادی رقم مکمل طور پر وصول کریں، انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل والٹ کا مقصد خواتین کو محفوظ، آسان اور شفاف طریقے سے مالی سہولت فراہم کرنا ہے۔
اس موقع پر سینیٹر روبینہ خالد نے اپنی نگرانی میں مستحق خواتین میں مفت بینظیر فری سم بھی تقسیم کروائیں اور انہیں سم کی افادیت اور ڈیجیٹل والٹ کے مؤثر استعمال کے بارے میں عملی رہنمائی فراہم کی۔
چیئرپرسن بی آئی ایس پی نے متعلقہ عملے کو ہدایت کی کہ بینظیر فری سم کی تقسیم کا عمل مکمل شفافیت، سہولت اور نظم و ضبط کے ساتھ جاری رکھا جائے، جبکہ تمام مستحق خواتین کے ساتھ عزت و احترام سے پیش آتے ہوئے انہیں بروقت اور باوقار خدمات فراہم کی جائیں۔
انہوں نے کہا کہ مستحق افراد کی خدمت صرف سرکاری ذمہ داری نہیں بلکہ ایک قومی فریضہ ہے، اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل بی آئی ایس پی خیبرپختونخوا الف جان آفریدی بھی موجود تھے۔