امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات عالمی تیل مارکیٹ پر بھی نمایاں ہونے لگے ہیں جہاں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد سے زائد اضافہ ہوا جس کی بنیادی وجہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور تیل کی ترسیل سے متعلق خدشات بتائے جا رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت میں 2.67 ڈالر فی بیرل کا اضافہ ہوا جس کے بعد برینٹ کروڈ کی قیمت 78.68 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کار مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ خطے میں کسی بھی بڑے تنازع سے عالمی توانائی کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ آبنائے ہرمز کی صورتحال سے متعلق خدشات ہیں۔ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین آبی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے بڑی مقدار میں خام تیل اور دیگر توانائی مصنوعات کی ترسیل ہوتی ہے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن (EIA) کے مطابق جنگ سے قبل دنیا بھر میں سپلائی ہونے والے خام تیل کا تقریباً 20 فیصد آبنائے ہرمز کے راستے منتقل کیا جاتا تھا۔ اسی وجہ سے اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی تیل مارکیٹ پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی فوج نے ایران کے خلاف مزید حملوں کا آغاز کرنے کا اعلان کیا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق نئی کارروائیوں کا مقصد ایران کی اس صلاحیت کو کمزور کرنا ہے جس کے ذریعے وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے شہری اور تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔