امریکا ایران کشیدگی،پاکستان مذاکرات کی بحالی کے لیے پھر متحرک ، اسحاق ڈار کے اہم رابطے

امریکا ایران کشیدگی،پاکستان مذاکرات کی بحالی کے لیے پھر متحرک ، اسحاق ڈار کے اہم رابطے

امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خطے میں امن و استحکام کو لاحق خطرات کے پیش نظر پاکستان نے سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایرانی اور سعودی ہم منصبوں سے رابطے کرکے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ مذاکرات اور سفارت کاری کے راستے پر واپس آئیں۔

ذرائع کے مطابق اسحاق ڈار نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلی فونک گفتگو کی جس میں خطے کی موجودہ صورتحال بڑھتی ہوئی کشیدگی اور امن کی بحالی کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اسحاق ڈار نے گفتگو کے دوران زور دیا کہ کشیدگی میں کمی اور تحمل کا مظاہرہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی امن و استحکام کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری ہی مؤثر راستہ ہے جبکہ پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنا تعمیری کردار جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :یکم مارچ کو ایرانی حملے میں کتنے امریکی فوجی ہلاک ہوئے،امریکی اخبار کا بڑا دعوی

نائب وزیراعظم نے سعودی حکام سے بھی رابطہ کیا۔ اس سلسلے میں پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید احمد المالکی نے اسحاق ڈار سے ملاقات کی جس میں خطے کی تازہ صورتحال اور امن کے لیے سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے مذاکرات اور سفارت کاری کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششوں کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر اتفاق کیا۔

دوسری جانب پاکستان کے دفتر خارجہ نے امریکا ایران کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام متعلقہ فریقوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور فوری طور پر کشیدگی میں کمی کے اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان موجودہ صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور خطے میں پائیدار امن و استحکام کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔

 یہ بھی پڑھیں :اسحاق ڈار کو برطانوی وزیر خارجہ کا فون ، قیام امن کیلئے پاکسان کے تعمیری کردار کی تعریف

واضح رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ یہ اہم آبی گزرگاہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے، جس کی صورتحال نے خطے میں مزید کشیدگی کے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔

editor

Related Articles