روس ایران کی مدد کیلئے آگیا ، روس کا جدید کمانڈ سینٹر طیارہ ایران پہنچ گیا

روس ایران کی مدد کیلئے آگیا ، روس کا جدید کمانڈ سینٹر طیارہ ایران پہنچ گیا

ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران روس کی جانب سے ایک اہم فوجی اقدام سامنے آیا ہے۔ روس نے اپنا جدید ٹی یو-214 پی یو (Tu-214PU) کمانڈ اینڈ کنٹرول طیارہ ایران کے دارالحکومت تہران بھیج دیا ہے جسے فوجی ماہرین اڑتا ہوا کمانڈ سینٹر یا ڈومز ڈے کمانڈ سینٹر بھی قرار دیتے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق یہ خصوصی طیارہ انتہائی ہنگامی اور جنگی حالات میں روسی قیادت اور اعلیٰ فوجی کمان کو محفوظ انداز میں رابطے برقرار رکھنے حساس معلومات کے تبادلے عسکری کارروائیوں کی نگرانی اور مختلف محاذوں پر موجود افواج کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

جدید مواصلاتی نظام محفوظ سیٹلائٹ رابطوں اور کمانڈ اینڈ کنٹرول صلاحیتوں سے لیس یہ طیارہ کسی بڑے فوجی بحران یا غیر معمولی سیکیورٹی صورتحال میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

روسی طیارے کی تہران آمد ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی ایک مرتبہ پھر شدت اختیار کر چکی ہے۔ حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز کے قریب بحری سرگرمیوں تجارتی جہازوں پر حملوں کے الزامات اور امریکی فوجی کارروائیوں کے بعد پورا خطہ غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے جبکہ ممکنہ فوجی تصادم کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:صرف 4,700 روپے ماہانہ قسط پر ہونڈا موٹر سائیکل گھر لے جائیں، خریداروں کے لیے بڑی خوشخبری

روس کی جانب سے اس خصوصی طیارے کی تہران روانگی کو معمول کا سفارتی یا عسکری دورہ قرار نہیں دیا جا رہا بلکہ اسے ماسکو اور تہران کے درمیان بڑھتے ہوئے دفاعی اور اسٹریٹجک تعاون کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام کے ذریعے دونوں ممالک حساس فوجی معلومات کے تبادلے مشترکہ حکمت عملی کی تیاری اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے باہمی رابطوں کو مزید مضبوط بنا سکتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ Tu-214PU روس کے جدید ترین فضائی کمانڈ پلیٹ فارمز میں شمار ہوتا ہے۔ یہ طیارہ محفوظ مواصلاتی نظام خفیہ رابطوں سیٹلائٹ کمیونیکیشن اور اعلیٰ سطح کی کمانڈ صلاحیتوں سے لیس ہے جس کی بدولت روسی قیادت زمینی تنصیبات متاثر ہونے کی صورت میں بھی فضاء سے فوجی آپریشنز کی نگرانی اور احکامات جاری رکھ سکتی ہے۔

دوسری جانب عالمی برادری کی نظریں مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال پر مرکوز ہیں۔ سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو اس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی سیاست توانائی کی منڈیوں تیل کی قیمتوں بین الاقوامی تجارت اور عالمی سلامتی پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

 روس یا ایران کی جانب سے اس طیارے کی تہران آمد کے مقصد اور نوعیت کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا جبکہ مختلف بین الاقوامی ذرائع اس پیش رفت کو خطے میں تیزی سے بدلتی ہوئی جغرافیائی اور دفاعی صورتحال کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دے رہے ہیں۔

editor

Related Articles