عالمی تجارتی گزرگاہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور بحری جہازوں کی آمد و رفت میں شدید تعطل کے باعث تیل کی عالمی مارکیٹ میں زبردست ہلچل مچ گئی ہے۔
بحری نقل و حمل کی نگرانی کرنے والے بین الاقوامی ادارے ’میرین ٹریفک‘ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اس انتہائی اہم تجارتی راستے سے صرف 5 کمرشل بحری جہاز گزرنے میں کامیاب ہو سکے ہیں، جس کے بعد یہاں بحری ٹریفک گزشتہ 5 ہفتوں کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔
اس بندش کے فوری اثر کے طور پر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں ایک بار پھر تیزی سے بڑھ گئی ہیں، جہاں برینٹ کروڈ کی قیمت 79 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔
امریکی دعویٰ اور زمینی حقائق
یہ بحرانی صورتحال ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حال ہی میں امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران کا آبنائے ہرمز پر کنٹرول ختم ہو چکا ہے یا اس میں واضح کمی آئی ہے۔
تاہم تازہ ترین زمینی حقائق اور میرین ٹریفک کے پریشان کن اعداد و شمار امریکی دعووں کے برعکس تصویر پیش کر رہے ہیں۔
گزرگاہ پر پیدا ہونے والے تناؤ اور جہازوں کی انتہائی سست رفتاری نے یہ ثابت کیا ہے کہ خطے میں سیکیورٹی خدشات اب بھی برقرار ہیں، جس نے بحری کمپنیوں کو اپنے روٹس تبدیل کرنے یا سفر کو مؤخر کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
عالمی مارکیٹ پر اثرات
آبنائے ہرمز کی بندش اور سپلائی چین متاثر ہونے کی خبریں عام ہوتے ہی عالمی توانائی مارکیٹ دباؤ کا شکار ہو گئی ہے۔ چند ہی گھنٹوں میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو پر لگ گئے ہیں
مارکیٹ میں برینٹ آئل کی قیمت بڑھ کر 79 ڈالر فی بیرل کی سطح پر پہنچ گئی ہے۔ امریکی خام تیل کی قیمت میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور یہ اب 74 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ عرب امارات کا مربن تیل بھی گراوٹ کے بعد سنبھل کر 74 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آ گیا ہے۔
آبنائے ہرمز کی عالمی اہمیت
آبنائے ہرمز خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحر عرب سے ملانے والی دنیا کی سب سے اہم بحری گزرگاہ ہے۔ جغرافیائی اور اسٹریٹجک لحاظ سے اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دنیا بھر میں استعمال ہونے والے کل خام تیل کا تقریباً 20 فیصد اسی تنگ راستے سے ہو کر گزرتا ہے۔
سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت، عراق اور ایران جیسے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک اپنی برآمدات کے لیے اسی گزرگاہ پر انحصار کرتے ہیں۔ ماضی میں بھی جب کبھی اس خطے میں جغرافیائی سیاسی (جیو پولیٹیکل) تناؤ بڑھا، تو اس کا براہ راست اثر عالمی معیشت اور تیل کی سپلائی پر پڑا۔
معاشی اور دفاعی اثرات
موجودہ بحران محض بحری جہازوں کی آمد و رفت میں کمی کا معاملہ نہیں بلکہ یہ ایک گہرے جیو پولیٹیکل تناؤ کا عکاس ہے۔
ایک طرف امریکا اور اس کے اتحادی خطے میں بحری سفر کو محفوظ بنانے اور ایران کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کے دعوے کر رہے ہیں، تو دوسری طرف سپلائی چین کا تعطل ظاہر کرتا ہے کہ تہران اب بھی اس اہم گزرگاہ پر اسٹرٹیجک برتری رکھتا ہے۔
اگر آبنائے ہرمز میں یہ تعطل مزید چند روز یا ہفتے برقرار رہا تو خام تیل کی قیمتیں بآسانی 85 سے 90 ڈالر فی بیرل کی حد عبور کر سکتی ہیں۔
اس کا براہ راست نقصان ترقی پذیر اور درآمدی تیل پر انحصار کرنے والے ممالک کو ہوگا، جہاں مہنگائی کا نیا طوفان آ سکتا ہے۔
مزید برآں بحری جہازوں کے انشورنس پریمیم (انشورنس فیس) میں غیر معمولی اضافے کی وجہ سے عام مال برداری کے اخراجات بھی بڑھ جائیں گے، جو عالمی تجارتی بحران کو مزید سنگین بنا سکتا ہے۔