عالمی منڈی میں منگل کے روز سونے کی قیمتوں میں معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا تاہم کاروباری سیشن کے آغاز میں قیمتیں دو ہفتوں کی کم ترین سطح تک گر گئی تھیں جبکہ مشرق وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی مالیاتی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال کو مزید بڑھا دیا ہے۔
بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.3 فیصد اضافے کے ساتھ 4,013.93 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی جبکہ امریکی گولڈ فیوچر 0.4 فیصد اضافے کے بعد 4,020.80 ڈالر فی اونس پر ٹریڈ کرتے رہے۔
تاہم اس سے ایک روز قبل پیر کو سونے کی قیمت میں تقریباً 3 فیصد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی تھی جو ایک ماہ سے زائد عرصے کی سب سے بڑی یومیہ گراوٹ تھی۔ اس کی بنیادی وجہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتوں کا ایک ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ جانا تھا جس سے عالمی سطح پر مہنگائی کے خدشات میں اضافہ ہوا۔
مالیاتی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ سونے کو روایتی طور پر مہنگائی اور معاشی غیر یقینی صورتحال کے دوران محفوظ سرمایہ کاری (Safe Haven Asset) سمجھا جاتا ہے تاہم بلند شرح سود اس کی کشش کو کم کر دیتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سونا کوئی منافع یا سود فراہم نہیں کرتا جبکہ زیادہ شرح سود کی صورت میں سرمایہ کار بانڈز اور دیگر سود دینے والے اثاثوں کو ترجیح دیتے ہیں۔
ادھر دیگر قیمتی دھاتوں میں ملا جلا رجحان دیکھنے میں آیا۔ اسپاٹ چاندی 0.1 فیصد کمی کے ساتھ 57.60 ڈالر فی اونس، پلاٹینم 0.5 فیصد کمی کے بعد 1,597.52 ڈالر فی اونس جبکہ پیلاڈیم 0.6 فیصد اضافے کے ساتھ 1,254.82 ڈالر فی اونس پر ٹریڈ کرتا رہا۔
آئندہ چند روز میں امریکی مہنگائی کے اعدادوشمار، فیڈرل ریزرو کے پالیسی اشارے اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال سونے سمیت عالمی کموڈیٹی مارکیٹ کی سمت کے تعین میں فیصلہ کن کردار ادا کریں گے۔ اگر مہنگائی توقعات سے زیادہ رہی اور شرح سود میں اضافے کے امکانات مضبوط ہوئے تو سونے کی قیمتوں پر مزید دباؤ آسکتا ہے