کالعدم ایکشن کمیٹی نے اپنے مذموم مقاصد کو پورا کرنے کیلئے اب خواتین اور بچوں کو بطور ڈھال استعمال کرنا شروع کر دیا۔
اطلاعات کے مطابق کالعدم ایکشن کمیٹی نے لانگ مارچ شروع ہونے سے قبل خواتین اور بچوں کو جلوس کے اگلے حصے میں کھڑا کر دیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ خواتین اور بچوں کو آگے کرنے کا مقصد ممکنہ کارروائی کے دوران انہیں بطور ڈھال استعمال کرنا اور صورتحال کو اشتعال انگیز بنانا ہے۔
ذرائع کے مطابق خواتین اور بچوں کو سیاسی یا پُرتشدد سرگرمیوں میں استعمال کرنا نہ صرف انتہائی غیر ذمہ دارانہ اقدام ہے بلکہ ان کی جان و سلامتی کو بھی خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ متعلقہ اداروں نے شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں، کو ایسی سرگرمیوں سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔
دوسری جانب کالعدم ایکشن کمیٹی کے 5 افراد گرفتار کرلیے گئے ، عوامی ایکشن کمیٹی کے پس پردہ عزائم اور حقائق ملزمان نے بیان کر دیئے ، کتنا اسلحہ موجود ہے اس حوالے سے پردہ فاش ہوگیا۔
ویڈیو میں تحصیل ڈڈیال کا صدر خواجہ سہیل مشتاق نے اپنے ساتھیوں سمیت عوامی ایکشن کمیٹی سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے اداروں سے معافی بھی مانگ لی ۔
بیان میں ملزمان نے یہ بھی کہا کہ ہم سوشل میڈیا کے ذریعے اشتعال انگیز مہم چلا کر لوگوں کے جذبات بھڑکاتے رہے اور نوجوانوں کو احتجاج پر اکساتے رہے اور مہران اپیلیں کرکے لوگوں کو اکساتا ہے ، ہم اسکو بھی بند کرتے ہیں اور ڈیلیٹ بھی کردیں گے ۔
ملزم کا کہنا تھا کہ میں اپیل کرتا ہوں ان کا ایجنڈا پہلے کچھ اور تھا اب کچھ اور ہے یہ لوگوں کے بچے مرواتے ہیں ہمیں پہلے سمجھ نہیں آیا تھا ہمیں ان سے بچایا جائے ۔
واضح رہے کہ آزاد کشمیر کے شہر راولا کوٹ کے نیو بس اسٹینڈ پرآج صبح کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے انتشاریوں نے اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں رینجرز کا ایک اہلکار شہید جبکہ ایک زخمی ہو گیا ۔