خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدہ صورتحال اور آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کے خدشات کے پیشِ نظر پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (پی ایل ایل) نے سپاٹ ایل این جی کارگو کی خریداری کے لیے ایک اور ہنگامی ٹینڈر جاری کر دیا ہے۔
پی ایل ایل کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق دنیا بھر کی ایل این جی سپلائر کمپنیوں سے 15 جولائی تک بولیاں طلب کی گئی ہیں، یہ بولیاں 21 اور 22 جولائی کو پاکستان میں ایل این جی کارگو کی فراہمی کے لیے طلب کی گئی ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ موصول ہونے والی تمام بولیاں جمع ہونے کے اسی روز فوری طور پر کھولی جائیں گی تاکہ خریداری کا عمل جلد مکمل کیا جا سکے اور ملک میں گیس کی فراہمی بلا تعطل برقرار رکھی جا سکے۔
واضح رہے کہ حکومتِ پاکستان اس سے قبل بھی جولائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے دو سپاٹ ایل این جی کارگو خرید چکی ہے، پی ایل ایل کے مطابق 10 سے 11 جولائی کی سپلائی کے لیے ایل این جی کارگو 17.37 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کے نرخ پر خریدا گیا تھا، جبکہ 30 جون سے 4 جولائی کے درمیان سپلائی ہونے والا کارگو 16.73 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کے ریٹ پر حاصل کیا گیا تھا۔
ماہرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال اور آبنائے ہرمز سے متعلق خدشات کے باعث عالمی ایل این جی مارکیٹ میں قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا امکان برقرار ہے، جس کے پیشِ نظر پاکستان بروقت ایندھن کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر خریداری کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔