سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم نے کیمبرج امتحانات کے مبینہ پیپر لیک کے معاملے پر این سی سی آئی (نیشنل کرائسس اینڈ کرائم انویسٹی گیشن) کو تحقیقات جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے کے باعث طلبہ کا قیمتی وقت ضائع ہو رہا ہے۔
چیئرپرسن بشریٰ انجم بٹ کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں کیمبرج امتحانات کے مبینہ پیپر لیک، تعلیمی اداروں میں پلیجرزم کی روک تھام اور سرکاری اسکولوں میں طلبہ سے ڈونیشن وصول کرنے کے معاملات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس کے دوران ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے پلیجرزم کی روک تھام سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ آئندہ تین ماہ میں تمام تعلیمی بورڈز سے مشاورت مکمل کرکے عملدرآمد کا جامع منصوبہ تیار کر لیا جائے گا۔ ایچ ای سی حکام نے کمیٹی کو یقین دہانی کرائی کہ پلیجرزم کے خاتمے کے لیے کمیٹی کی ہدایات پر مکمل عمل کیا جائے گا۔
چیئرپرسن بشریٰ انجم بٹ نے کہا کہ پلیجرزم طلبہ اور پورے تعلیمی نظام پر انتہائی منفی اثرات مرتب کرتا ہے، اس لیے اس کی مؤثر روک تھام وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اجلاس میں کیمبرج امتحانات کے مبینہ پیپر لیک سے متاثرہ طلبہ نے بھی شرکت کی اور اپنا مؤقف پیش کیا۔ طلبہ نے کمیٹی کو بتایا کہ این سی سی آئی اس معاملے کی گہرائی سے تحقیقات کر رہی ہے اور وہ تحقیقاتی ادارے کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔
آئی بی سی سی کے ڈائریکٹر نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ مبینہ پیپر لیک کے حوالے سے 17 مختلف کمپوننٹس کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے، تاہم اب تک کسی بھی کمپوننٹ کی جانب سے باضابطہ طور پر پیپر لیک ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی۔
کمیٹی نے این سی سی آئی کو ہدایت کی کہ تحقیقات کو جلد از جلد منطقی انجام تک پہنچایا جائے تاکہ طلبہ میں پائی جانے والی بے چینی کا خاتمہ ہو سکے۔
اجلاس میں سرکاری اسکولوں میں طلبہ سے ڈونیشن لے کر مرمت کرانے کے معاملے پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ چیئرپرسن بشریٰ انجم بٹ نے کہا کہ اگرچہ پیرا نے ڈونیشن جمع کرنے کی اجازت دی ہے، تاہم سرکاری اسکولوں میں بچوں سے نقد ڈونیشن وصول کرنا حیران کن ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر وزارت سے جواب طلب کیا جائے گا، جبکہ آئندہ اجلاس میں متعلقہ سرکاری اسکولوں کے اساتذہ کو بھی طلب کیا جائے گا تاکہ حقائق سامنے لائے جا سکیں۔