مولانا فضل الرحمان کے اثر و رسوخ کا کمال، پی ٹی سی ایل انجینئر سے ڈی سی کراچی بننے تک بھائی ضیاء الرحمن کا حیرت انگیز سفر،سوشل میڈیا صارفین نے بھانڈا پھوڑ دیا
Home - آزاد انتخاب - مولانا فضل الرحمان کے اثر و رسوخ کا کمال، پی ٹی سی ایل انجینئر سے ڈی سی کراچی بننے تک بھائی ضیاء الرحمن کا حیرت انگیز سفر،سوشل میڈیا صارفین نے بھانڈا پھوڑ دیا
مولانا فضل الرحمان شہداء کی توہین کرنے پر شدید تنقید کی زد میں آگئے ہیں ،سوشل میڈیا صارفین نے مولانا کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے سوالات کی بوچھا ڑ کردی۔
سوشل میڈیا صارفین نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کے بھائی ضیاء الرحمان PTCL میں 17 گریڈ کے ملازم تھے، پھر مولانا نے اپنے اثر و رسوخ سے PTCL انجینئر رہتے ہوئے ہی اسسٹنٹ کمشنر بعد ازاں انہیں ڈپٹی کمشنر بنادیا، یہ اپنی نوعیت کا عجیب کیس تھا۔
انہوں نے مقابلے کا کوئی امتحان نہیں دیا ، نہ صوبائی نا وفاقی اور پھر بھی اسسٹنٹ کمشنر لگ گئے بعد ازاں انہیں خیبر سے پنجاب منتقل کرواکر ڈی سی خوشاب لگوایا۔
اب جیسے بھی تھا تعلق تو ان کا خیبرپختونخواہ کی PMS سے تھا لیکن مولانا کا اثر و رسوخ دیکھئے کہ 23 جولائی 2020 کو سندھ حکومت نے ان کو ضلع وسطی کراچی کا ڈی سی تعینات کردیا ۔
پی ایم ایس خیبرپختونخواہ کا افسر کسی طور سندھ میں تعینات نہیں ہوسکا تھا یہ تقرری مولانا فضل الرحمان اور آصف علی زرداری/بلاول بھٹو کی 10 جولائی 2020 کی کراچی ملاقات کے فوراً بعد ہوئی۔
سوشل میڈیا صارفین کا کہنا تھا کہ مولانا باتیں تو اسلام کی کرتے ہیں لیکن انہیں چاہیے کہ وہ اپنے گریبان میں بھی جھانکیں ،صارفین کا کہنا تھا کہ فضل الرحمان اپنے بھائی، بیٹے اور سمدھی کے معاملات پر جواب دیں، پھر دوسروں پر انگلی اٹھائیں۔
سوشل میڈیا صارفی نے فضل الرحمان کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مولانا دوسروں پر انگلی اٹھانے سے پہلے اپنے بھائی کا جواب دیں،پہلے اپنے گریبان میں تو جھانکیں ۔
باتیں اسلام کی درس اسلام کا اور خود اپنے سمدھی کو گورنر لگوادیا جس پر کرپشن کے الزامات لگے بیٹے کو وفاقی وزیر لگوادیا ، اور اب سب برے ہیں کیوں کہ مولانا خود حکومت کا حصہ نہیں ہیں ۔