ایرانی فوج کے ایک سینئر عہدیدار بریگیڈیئر جنرل محمد اکرم نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز جنگ یا دھمکیوں کے ذریعے نہیں کھلے گی اور امریکا کو عالمی قوانین اور ممالک کی خودمختاری کا احترام کرنا ہوگا۔
ایرانی فوج کے جاری کردہ بیان کے مطابق ایران آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی بیرونی مداخلت یا بین الاقوامی معاہدوں کی مبینہ خلاف ورزی کو قبول نہیں کرے گا،بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ ایران نے ایک معاہدے کے تحت عارضی طور پر 60 روز کے لیے آبنائے ہرمز سے ٹول فری آمدورفت کی اجازت دی تھی۔
امریکا نے مبینہ طور پر اس سہولت کا غلط استعمال کرتے ہوئے وہاں غیر قانونی راستہ بنانے کی کوشش کی، جسے ایران نے ناقابل قبول قرار دیا،بریگیڈیئر جنرل محمد اکرم نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ امریکا ایران کے حقوق اور خودمختاری کا احترام کرے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی مسلح افواج اپنے قومی مفادات اور خودمختار حقوق کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور کسی بھی دباؤ کو قبول نہیں کرے گی۔