وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ مسائل کا پائیدار حل احتجاج دھرنوں یا تصادم میں نہیں بلکہ جمہوری عمل مذاکرات اور آئینی طریقہ کار کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت اور آزاد جموں و کشمیر حکومت نے ہر مرحلے پر مذاکرات کو ترجیح دی اور کبھی بھی مظاہرین کو ڈرانے، دھمکانے یا ان پر طاقت کے استعمال کا ارادہ نہیں رکھا۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ اب تک ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں تشدد ایکشن کمیٹی کی جانب سے کیا گیا۔ انہوں نے اکتوبر 2025 کے لانگ مارچ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اس دوران مجموعی طور پر 13 افراد جاں بحق ہوئے تھے جن میں 8 پولیس اہلکار بھی شامل تھے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ گزشتہ سال لانگ مارچ کے دوران مظاہرین کو روکنے کے لیے تعینات پولیس اہلکار غیر مسلح تھے۔ ان کے بقول اگر حکومت کا مقصد طاقت کا استعمال یا مظاہرین کو خوفزدہ کرنا ہوتا تو پولیس کو ہتھیاروں سے لیس کر کے بھیجا جاتا تاہم ایسا نہیں کیا گیا کیونکہ حکومت تصادم کے بجائے پرامن حل چاہتی تھی۔
ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے الزام عائد کیا کہ راولاکوٹ میں ایکشن کمیٹی سے وابستہ افراد نے مقامی پولیس اہلکاروں کی وردیاں اتاریں اور جاں بحق افراد کی لاشوں کی بے حرمتی بھی کی جسے کسی بھی صورت میں درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے مظاہرین کے بیشتر مطالبات کو تسلیم کیا اور مسلسل مذاکرات کے ذریعے معاملات کو حل کرنے کی کوشش کی تاہم مہاجرین کی 12 مخصوص نشستوں کا معاملہ مکمل طور پر آئینی نوعیت کا ہے۔ ان کے مطابق ان نشستوں کا خاتمہ کسی انتظامی حکم یا ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے ممکن نہیں، بلکہ اس کے لیے قانون ساز اسمبلی میں آئینی ترمیم ضروری ہے۔
وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ نہ وہ خود نہ رانا ثناء اللہ اور نہ ہی وزیراعظم پاکستان کسی حکم نامے کے ذریعے مہاجرین کی نشستوں کو ختم کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مہاجرین کی نشستوں کا خاتمہ انہیں حقِ رائے دہی اور حقِ خودارادیت سے محروم کرنے کے مترادف ہوگا اس لیے کشمیری عوام کے بنیادی سیاسی حقوق کا ہر صورت تحفظ کیا جائے گا۔
انہوں نے مظاہرین کو مشورہ دیا کہ اگر انہیں اپنی عوامی حمایت پر یقین ہے تو وہ سڑکوں پر احتجاج کرنے کے بجائے قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں حصہ لیں اور عوامی مینڈیٹ حاصل کر کے اسمبلی کے اندر آئینی اور جمہوری طریقے سے اپنے مطالبات پیش کریں۔
ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت تمام سیاسی اور آئینی معاملات کو مذاکرات، اتفاقِ رائے اور جمہوری روایات کے مطابق حل کرنے پر یقین رکھتی ہے، کیونکہ مسائل کا مستقل اور مؤثر حل صرف پارلیمانی اور آئینی عمل کے ذریعے ہی ممکن ہے۔