ہنگو میں ایف سی پوسٹ پر قبضے کا ٹی ٹی پی کا دعویٰ جھوٹا پروپیگنڈا ثابت، سکیورٹی فورسز کا علاقے پر مکمل کنٹرول

ہنگو میں ایف سی پوسٹ پر قبضے کا ٹی ٹی پی کا دعویٰ جھوٹا پروپیگنڈا ثابت، سکیورٹی فورسز کا علاقے پر مکمل کنٹرول

ہنگو میں فرنٹیئر کور (ایف سی) کی ایک پوسٹ پر کالعدم دہشتگرد تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) جسے فتنہ الخوارج بھی کہا جاتا ہے، کے قبضے کا دعویٰ سراسر جھوٹا اور من گھڑت پروپیگنڈا ثابت ہوا ہے۔

سیکیورٹی ذرائع اور آزاد فیکٹ چیک نے اس گمراہ کن مہم کا پردہ چاک کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے علاقے میں فوری کارروائی کرتے ہوئے پوسٹ پر اپنا مکمل کنٹرول دوبارہ بحال کر لیا ہے اور وہاں ریاست کی رٹ مضبوطی سے قائم ہے۔

پروپیگنڈا ویڈیو اور اصل واقعہ کی حقیقت

ذرائع کے مطابق یہ واقعہ ہنگو کے علاقے ’نوی دھند‘ میں واقع ایف سی پوسٹ پر پیش آیا۔ یہ پوسٹ عارضی طور پر خالی کی گئی تھی کیونکہ وہاں سے فوجی سازوسامان دوسری جگہ منتقل کیا جا رہا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:آپریشن شعبان میں سیکیورٹی فورسز کی بڑی کامیابی، مزید 4 خوارج ہلاک، مجموعی تعداد 71 ہوگئی

11 جولائی 2026 کے آس پاس، ٹی ٹی پی کی ایک میڈیا اور پروپیگنڈا ٹیم، جس کی قیادت دہشتگرد کمانڈر غازی اور ملنگ کر رہے تھے، اس خالی چوکی پر پہنچی۔

انہوں نے پوسٹ کے تالے توڑے، اندر داخل ہوئے اور اپنی جھوٹی طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لیے ایک منظم ویڈیو ریکارڈ کی۔

اس ویڈیو کا مقصد عوام میں سکیورٹی اداروں کے خلاف بے اعتمادی اور خوف کی فضا پیدا کرنا تھا، جسے بعد میں ٹی ٹی پی سے وابستہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر تیزی سے وائرل کیا گیا۔

سیکیورٹی فورسز کا فوری ایکشن اور جوابی کارروائی

دہشتگردوں کی اس حرکت کا علم ہوتے ہی سکیورٹی فورسز نے فوری اور مؤثر جوابی کارروائی کا آغاز کیا، سیکیورٹی فورسز نے نوی دھند کے علاقے میں فوری انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن شروع کیا، جس کے دوران پروپیگنڈا ویڈیو بنانے والے ٹی ٹی پی کے دہشتگردوں کو موقع پر ہی بے اثر (ہلاک) کر دیا گیا۔

مشترکہ کلیئرنس آپریشن

12 جولائی کو ایف سی اور پولیس نے مل کر ایک بڑا سرچ آپریشن کیا اور پوسٹ میں دوبارہ داخل ہو کر مکمل کنٹرول سنبھال لیا۔ تلاشی کے دوران وہاں کوئی دہشت گرد موجود نہیں پایا گیا۔

حقائق پر مبنی ویڈیو کا اجرا

سیکیورٹی فورسز نے بعد میں اپنی ایک ویڈیو بھی جاری کی جس میں سکیورٹی اہلکار پوسٹ پر موجود دکھائی دے رہے ہیں۔ اس ویڈیو نے ثابت کیا کہ دہشتگردوں کا کوئی مستقل قبضہ نہیں تھا اور وہ صرف تصویر کشی کے لیے وہاں آئے تھے۔

آزاد فیکٹ چیکرز کی تصدیق

ملک کے معتبر اور آزاد فیکٹ چیکنگ اداروں نے اس واقعے کی باریک بینی سے جانچ پڑتال کے بعد متفقہ نتیجہ جاری کیا ہے۔

’آزاد فیکٹ چیک‘ نے ہنگو میں ایف سی پوسٹ پر قبضے کے حوالے سے فتنہ الخوارج (ٹی ٹی پی) کے دعوے کو جھوٹا قرار دیا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ سازوسامان کی منتقلی کے دوران یہ پوسٹ عارضی طور پر خالی تھی، جہاں دہشت گرد محض پروپیگنڈا ویڈیو بنانے آئے۔

مزید پڑھیں:آپریشن شعبان میں سیکیورٹی فورسز کی بڑی کامیابی، مزید 4 خوارج ہلاک، مجموعی تعداد 71 ہوگئی

سیکیورٹی فورسز نے فوری کارروائی کر کے اس میڈیا ٹیم کا خاتمہ کر دیا اور چوکی کا کنٹرول واپس لے کر ثبوتی ویڈیو بھی جاری کر دی ہے۔”

سوشل میڈیا کا بطور ہتھیار استعمال

یہ پہلی بار نہیں ہے کہ دہشتگرد تنظیموں کی جانب سے اس طرح کا ہتھکنڈہ اپنایا گیا ہو۔ خیبر پختونخوا کے شورش زدہ علاقوں میں جب بھی سکیورٹی فورسز دہشتگردوں کے نیٹ ورک کے خلاف فیصلہ کن آپریشنز کرتی ہیں، تو اپنی شکست کو چھپانے اور عوام کے اعصاب پر سوار ہونے کے لیے یہ گروہ ‘ٹک ٹاک’ طرز کی مختصر اور ایڈیٹڈ ویڈیوز کا سہارا لیتے ہیں۔

ایسی من گھڑت ویڈیوز کے ذریعے سکیورٹی فورسز کی کامیابیوں کو دھندلانے اور اپنی ورچوئل موجودگی کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، تاہم ڈیجیٹل مانیٹرنگ اور فوری جوابی بیانیے کے باعث اب ان کی عمر چند گھنٹوں سے زیادہ نہیں ہوتی۔

ہائبرڈ وارفیئر اور ریاست کا مؤثر جواب

یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان کو اس وقت نہ صرف زمین پر دہشتگردی کا سامنا ہے، بلکہ ‘ہائبرڈ وارفیئر’ (سائبر اور پروپیگنڈا جنگ) کے محاذ پر بھی ایک سخت چیلنج درپیش ہے۔

ٹی ٹی پی کا ایک خالی چوکی میں داخل ہو کر ویڈیو بنانا ان کی زمینی پسپائی کی عکاسی کرتا ہے، کیونکہ وہ سکیورٹی فورسز کا براہِ راست مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ لہٰذا، وہ نفسیاتی جنگ جیتنے کے لیے ڈس انفارمیشن کا سہارا لے رہے ہیں۔

تاہم، اس بار سیکیورٹی فورسز اور ریاستی اداروں کی حکمتِ عملی انتہائی جاندار رہی۔ ویڈیو سامنے آنے کے محض چند گھنٹوں کے اندر نہ صرف دہشتگردوں کا فزیکلی صفایا کیا گیا، بلکہ جوابی ویڈیو جاری کر کے ڈیجیٹل محاذ پر بھی ان کا بیانیہ پاش پاش کر دیا گیا۔ اس طرح کے فوری ردعمل سے میڈیا سنسنی خیزی کا خاتمہ ہوتا ہے اور عوام کا ریاست پر اعتماد برقرار رہتا ہے۔

Related Articles