امریکی ٹیکنالوجی کمپنی میٹا نے مصنوعی ذہانت کے میدان میں اپنے حریفوں کو ٹکر دینے کے لیے اب تک کا سب سے طاقتور اے آئی ماڈل متعارف کرا دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق میٹا پلیٹ فارمز نے اپنے نئے ماڈل ’میوز اسپارک 1.3‘ تک ڈویلپرز کی رسائی شروع کردی ہے، جس کے لیے وہ ادائیگی بھی کر سکیں گے۔ کمپنی اس ماڈل کو جلد ہی فیس بک، انسٹاگرام اور میٹا اے آئی کے صارفین کے لیے بھی متعارف کرانے کا ارادہ رکھتی ہے۔
میٹا کے چیف اے آئی افسر الیگزینڈر وانگ نے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ یہ کمپنی کے اے آئی ماڈلز کی کارکردگی میں اب تک کی سب سے بڑی بہتری ہے۔ ان کے مطابق نئے ماڈل نے کارکردگی کے اعتبار سے میٹا کو اوپن اے آئی اور اینتھروپک کے جدید ماڈلز کے مزید قریب پہنچا دیا ہے۔
وانگ نے دعویٰ کیا کہ ’میوز اسپارک 1.3‘ خاص طور پر کوڈنگ کے شعبے میں اوپن اے آئی کے جدید ماڈل سے بہتر کارکردگی دکھاتا ہے، جبکہ ان کے مطابق یہ ماڈل اس وقت دستیاب چینی اے آئی ماڈلز کے مقابلے میں بھی بہتر نتائج دے رہا ہے۔
میٹا کے مطابق ’میوز اسپارک 1.3‘ ایک ہی وقت میں متعدد ورک فلو چلانے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس کے لیے ہر کام کے لیے الگ سیشن شروع کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ نیا ماڈل طویل اور پیچیدہ ہدایات کو سمجھنے، مختلف کاموں کے دوران اہم تفصیلات یاد رکھنے اور اپنی حدود کو بہتر انداز میں پہچاننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
کمپنی کے مطابق ماڈل ضرورت پڑنے پر وضاحت طلب کرتا ہے اور ایسے اقدامات سے پہلے صارف سے تصدیق حاصل کرتا ہے جنہیں بعد میں واپس کرنا مشکل ہو۔ میٹا کا کہنا ہے کہ ماڈل کو صارفین کے لیے جاری کرنے سے پہلے اس کی وسیع پیمانے پر سیفٹی ٹیسٹنگ اور ٹریننگ بھی کی گئی ہے۔
کیا میٹا ماڈل کے ویٹس جاری کرے گا؟
میٹا نے ابھی فیصلہ نہیں کیا کہ ’میوز اسپارک 1.3‘ کے ویٹس عوام کے لیے جاری کیے جائیں گے یا نہیں۔ ویٹس دراصل اے آئی ماڈل کے اندر موجود وہ بنیادی پیرامیٹرز ہیں جو تربیت کے بعد ماڈل کے کام کرنے کے انداز کو طے کرتے ہیں۔ اگر یہ جاری کردیے جائیں تو ڈویلپرز ماڈل کو خود ڈاؤن لوڈ کرکے چلا سکتے ہیں اور اس پر مزید کام کرسکتے ہیں۔ تاہم الیگزینڈر وانگ کے مطابق میٹا اپنے سابقہ ماڈل ’میوز اسپارک 1.2‘ کے ویٹس جاری کرنے کے منصوبے پر اب بھی قائم ہے۔
میٹا کے نئے ماڈل کی لانچ سے قبل کمپنی کے ایک سابقہ اے آئی ماڈل سے متعلق سکیورٹی خدشات بھی سامنے آچکے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سائبر سکیورٹی کی جانچ کے دوران اس ماڈل نے انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کرکے ایک بیرونی سروس کے نظام میں ہیکنگ کی تھی۔
اس واقعے نے اے آئی ماڈلز کو دی جانے والی خود مختاری اور ان کی سکیورٹی سے متعلق سوالات کو مزید اہم بنا دیا۔ الیگزینڈر وانگ کے مطابق اس واقعے سے میٹا کو نئے ماڈل کی سکیورٹی بہتر بنانے اور ٹیسٹنگ کے طریقہ کار میں تبدیلی لانے میں مدد ملی۔
میٹا کا کہنا ہے کہ ’میوز اسپارک 1.3‘ کو متعارف کرانے سے پہلے اس کی حفاظت پر خاص توجہ دی گئی ہے، تاہم کمپنی نے اس کے اگلے مرحلے میں صارفین تک مکمل رسائی کی حتمی تاریخ کے بارے میں تفصیلات جاری نہیں کیں۔