امریکا ایران کشیدگی ، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ

امریکا ایران کشیدگی ، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ

امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی نے مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی سپلائی کو درپیش خطرات کے خدشات بڑھا دیے ہیں، جس کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق گزشتہ 1 ہفتے کے دوران برینٹ خام تیل کی قیمت میں 7.1 فیصد جبکہ ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت میں 9.8 فیصد اضافہ ہوا، جو 20 جولائی کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں سب سے بڑا ہفتہ وار اضافہ قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی میں اس وقت مزید شدت آئی جب رواں ہفتے امریکی حملوں میں درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے، جن میں ایرانی شہری بھی شامل تھے۔

یہ بھی پڑھیں :مشرق وسطیٰ میں پھر کشیدگی، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ

دوسری جانب آبنائے ہرمز کی صورتحال نے عالمی توانائی مارکیٹ میں تشویش مزید بڑھا دی ہے۔

ایران نے ایسے بحری جہازوں کی فہرست میں بھی اضافہ کیا ہے جنہیں آبنائے ہرمز سے گزرنے کی صورت میں جرمانے، ضبطی یا حراست کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے تاہم تیل کی قیمتوں میں اضافے کو کسی حد تک محدود کرنے والی ایک اہم پیش رفت میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدے کی گنجائش اب بھی موجود ہے۔

رائٹرز کے مطابق اگست میں کیے گئے تجزیہ کاروں کے سروے میں توقع ظاہر کی گئی تھی کہ 2026 کے دوران تیل کی قیمتیں 80 ڈالر فی بیرل سے اوپر رہ سکتی ہیں، کیونکہ سمندری راستوں میں خلل کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔

یہ بھی پڑھیں :علم نہیں ایران جنگ مڈٹرم الیکشنز تک ختم ہوگی یا نہیں، جے ڈی وینس

ماہرین کی نظریں اب امریکا ایران کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی صورتحال پر مرکوز ہیں، کیونکہ خطے میں مزید کشیدگی کی صورت میں مشرقِ وسطیٰ سے عالمی منڈی کو تیل کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ برقرار ہے، جو قیمتوں میں مزید اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔

editor

Related Articles