مظاہرین یا دہشتگرد: باڑہ میں ڈنڈا بردار مسلح جتھے کا ٹاک ٹاک بنانے کے لئے گھر سے لائی ہوئی پولیس وردیاں جلانے کا ڈرامہ

مظاہرین یا دہشتگرد: باڑہ میں ڈنڈا بردار مسلح جتھے کا  ٹاک ٹاک بنانے کے لئے گھر سے لائی ہوئی پولیس وردیاں جلانے کا ڈرامہ

ضلع خیبر کے علاقے باڑہ میں گورنر راج کے خلاف پی ٹی آئی کے احتجاج کے دوران پولیس وردیاں جلانے اور سوشل میڈیا پر ویڈیوز بنانے کے معاملے سمیت بدامنی اور فائرنگ کے واقعات سامنے آئے ہیں، جبکہ باڑہ اور جمرود میں احتجاجی سرگرمیوں میں شرکا کی تعداد انتہائی محدود رہی۔

باڑہ چوک سے سامنے آنے والی ایک نئی ویڈیو کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ سوشل میڈیا، فیس بک اور ٹک ٹاک پر ویڈیوز بنانے کے لیے پولیس کی وردیاں گھروں سے لا کر سڑک پر جلائی گئیں۔ اطلاعات کے مطابق اس عمل کا مقصد یہ تاثر دینا تھا کہ پولیس کی وردیاں چھین کر جلائی گئی ہیں۔

دوسری جانب خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد صوبے کی سیاسی صورتحال میں تناؤ برقرار ہے۔ ذرائع کے مطابق ضلع خیبر کے علاقوں باڑہ اور جمرود میں پی ٹی آئی کی جانب سے احتجاجی سرگرمیاں کامیاب نہ ہو سکیں اور بیشتر مقامات پر احتجاج میں شریک افراد کے مقابلے میں سڑکوں پر تماشائیوں کی تعداد زیادہ دیکھی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: انتشاری سیاست کا باب ہمیشہ کے لئے بند، اسلام آباد سے کنٹینرز ہٹانے کا عمل تیزی سے جاری

باڑہ کے علاقے عالم گودر میں گورنر راج کے خلاف مظاہرے کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا، جس میں سکیورٹی ذرائع کے مطابق احتجاج میں شریک ایک کارکن اپنے ہی ساتھی کی اندھا دھند فائرنگ کی زد میں آ کر شدید زخمی ہو گیا۔ واقعے کے بعد مظاہرین میں خوف و ہراس پھیل گیا اور شرکا نے منتشر ہونے کی کوشش کی۔

پولیس حکام کے مطابق ڈیوٹی پر مامور اہلکاروں کو بھی فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا، جس پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے فائرنگ میں ملوث عناصر کو موقع پر گرفتار کر لیا اور علاقے کا محاصرہ کرکے صورتحال پر قابو پا لیا۔

واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے ڈی پی او خیبر نے کہا کہ امن و امان کے قیام پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ قانون ہاتھ میں لینے، پولیس فورس پر حملہ کرنے اور شہریوں کے لیے خطرہ بننے والے عناصر کے خلاف بلاامتیاز سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

باڑہ کے مقامی افراد کے مطابق اپنے ہی ساتھی کی فائرنگ اور عوام کی عدم توجہی کے باعث پی ٹی آئی کا احتجاجی بیانیہ متاثر ہوا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گورنر راج کے نفاذ کے بعد قانون نافذ کرنے والے ادارے الرٹ ہیں اور علاقے میں امن و امان کی صورتحال کنٹرول میں ہے۔

Related Articles