سینئر تجزیہ کار خرم روکڑی نے کہا ہے کہ پاکستان کے معدنی ذخائر سے طویل عرصے تک ملک اور قوم کے بجائے مخصوص بااثر افراد نے فائدہ اٹھایا، جبکہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں معدنیات کی غیر قانونی فروخت کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ معدنیات پر بات کرنے والے بعض یوٹیوبرز بنیادی طور پر پاکستان کو افریقہ جیسی صورت حال سے دوچار دیکھنا چاہتے ہیں۔
آزاد پوڈکاسٹ میں سلمان درانی سے گفتگو کرتے ہوئے خرم روکڑی نے کہا کہ جسے جہاں سے پیسہ مل رہا ہے، وہ وہیں سے کھیل رہا ہے۔ معدنیات کوئی آج دریافت نہیں ہوئی ہیں، بلکہ افریقہ اور سوڈان بھی معدنی وسائل سے مالامال ہیں، لیکن وہاں کمزور حکمرانی رکھی گئی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں موجود معدنیات دنیا کے دوسرے ممالک میں بھی پائی جاتی ہیں، ایسا نہیں کہ یہ ذخائر صرف پاکستان میں موجود ہیں۔ ہماری غلطی یہ رہی ہے کہ ہم نے آج تک اپنے معدنی ذخائر سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھایا۔
خرم روکڑی کے مطابق جب مقامی سطح پر چوری چھپے معدنیات نکالی جاتی ہیں تو انہیں سستے داموں فروخت کیا جاتا ہے، کیونکہ یہ معدنیات عالمی منڈی میں بھی فروخت کی جا سکتی ہیں۔
انہوں نے پاکستان کی سالٹ رینج میں موجود معدنیات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک ایسی معدنیات بھی موجود ہے جو 10 سال تک بھارت کو سستے داموں فروخت کی جاتی رہی۔ ان کے بقول، فی ٹرک صرف 2,000 روپے منافع پر یہ معدنیات بھارت کو فراہم کی جاتی رہی اور اس حوالے سے بھارت کے ایک وزیر کا بیان بھی سامنے آیا تھا کہ وہ آئندہ 50 سال تک یہ معدنیات پاکستان سے بھارت منگواتے رہیں گے۔
سینئر تجزیہ کار نے مزید کہا کہ اس دوران واہگہ بارڈر پر ٹرکوں کی لمبی قطاریں لگی رہتی تھیں اور ہزاروں، لاکھوں ٹرک بھارت بھیجے گئے۔
خرم روکڑی کا کہنا تھا کہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں طویل عرصے سے چند بااثر افراد چوری چھپے معدنیات فروخت کرتے رہے ہیں۔ معدنیات پہلے سے نکالی جا رہی ہیں، لیکن ان سے حاصل ہونے والے فوائد ملک اور قوم تک پہنچنے کے بجائے مخصوص افراد تک محدود رہے ہیں۔