مولانا فضل الرحمان کے بچپن سے متعلق ایک پرانا قصہ ایک بار پھر سیاسی بحث کا موضوع بن سکتا ہے۔ معروف کالم نگار ڈاکٹر اجمل نیازی نے 9 فروری 2012 کو روزنامہ نوائے وقت میں شائع ہونے والے اپنے کالم میں ایک واقعہ نقل کیا تھا، جس میں مولانا مفتی محمود سے منسوب گفتگو کے ذریعے ان کے صاحبزادے مولانا فضل الرحمان کے بارے میں ایک دعویٰ سامنے آیا تھا۔
اس واقعے کا حوالہ بعدازاں صحافی شاہین صہبائی نے 21 فروری 2020 کو اپنے کالم میں بھی دیا۔ ان کے بیان کے مطابق، اجمل نیازی نے اپنے کالم میں مولانا عبدالستار خان نیازی اور مولانا مفتی محمود کے درمیان ہونے والی ایک ملاقات کا ذکر کیا تھا۔ روایت کے مطابق، ملاقات کے دوران ایک نوعمر لڑکا بار بار کمرے میں داخل ہو رہا تھا، جس پر مفتی محمود اسے باہر جانے کا کہتے رہے۔
بیان کردہ قصے کے مطابق، جب مولانا عبدالستار خان نیازی نے مفتی محمود سے پوچھا کہ یہ لڑکا کون ہے اور اسے بار بار باہر کیوں بھیجا جا رہا ہے تو مفتی محمود نے اسے اپنا بیٹا فضل الرحمان بتایا۔ اسی روایت میں ان سے یہ بات منسوب کی گئی کہ ان کا بیٹا پیسے لے کر اپنے مخالفین کو ان کی باتیں پہنچاتا اور مخبری کرتا ہے۔
یہ قصہ اب سیاسی تناظر میں اس سوال کے ساتھ زیرِ بحث لایا جا سکتا ہے کہ آیا مولانا فضل الرحمان کے بارے میں یہ روایت ان کے ابتدائی سیاسی دور سے متعلق کسی پرانے تنازعے کی عکاسی کرتی ہے یا یہ محض ایک منسوب واقعہ ہے جس کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔
تاہم، اس حوالے سے ایک اہم صحافتی پہلو یہ ہے کہ یہ واقعہ مولانا مفتی محمود سے منسوب گفتگو اور سابقہ کالموں میں نقل کی گئی روایت پر مبنی ہے۔ اسے کسی مستند عدالتی فیصلے یا آزادانہ طور پر ثابت شدہ حقیقت کے طور پر پیش کرنے کے لیے الگ شواہد درکار ہوں گے۔
یوں مولانا فضل الرحمان کے بچپن سے متعلق یہ پرانا قصہ سیاسی بحث میں ایک بار پھر توجہ حاصل کر سکتا ہے، لیکن اس کی حیثیت کو واضح رکھتے ہوئے اسے ایک کالم میں نقل کیے گئے دعوے ہی کے طور پر بیان کرنا ضروری ہے۔