کروڑوں کی فنڈنگ، ریکارڈ کہاں؟ مدارس کتنے، چندہ کتنا، فنڈنگ کہاں سے؟ فضل الرحمان سے مالی حساب اور آڈٹ کا ریکارڈ سامنے لانے کا مطالبہ زور پکڑ گیا
Home - آزاد انتخاب - کروڑوں کی فنڈنگ، ریکارڈ کہاں؟ مدارس کتنے، چندہ کتنا، فنڈنگ کہاں سے؟ فضل الرحمان سے مالی حساب اور آڈٹ کا ریکارڈ سامنے لانے کا مطالبہ زور پکڑ گیا
مولانا فضل الرحمان اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کی سیاست میں دینی مدارس کا کردار اہم سمجھا جاتا ہے، لیکن مدارس کی تعداد، ان میں زیرِ تعلیم طلبہ، عطیات، نذرانوں، زکوٰۃ اور اندرون و بیرونِ ملک سے ملنے والی مالی معاونت کے مجموعی حسابات سے متعلق ایک بنیادی سوال اپنی جگہ موجود ہے۔ کیا مولانا کی سرپرستی میں چلنے والے مدارس اور جماعت کی فنڈنگ کا جامع، قابلِ تصدیق مالی ریکارڈ عوام کے سامنے ہے؟
یہ سوال محض قیاس آرائی نہیں۔ نومبر 2019 میں دی نیوز کے تحقیقی جریدے میں صحافی زاہد گشکوری کی رپورٹ بعنوان Where is the money coming from? شائع ہوئی، جس میں جے یو آئی (ف) کے آزادی مارچ کے مالی ذرائع اور اخراجات کا جائزہ لیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق جماعت کے ایک رہنما نے دعویٰ کیا کہ مارچ کے لیے تقریباً ایک ارب 10 کروڑ روپے جمع کیے گئے، جبکہ منتظمین سے منسوب اندازے میں تین ہفتوں کے دوران تقریباً 50 کروڑ روپے اخراجات کا ذکر تھا۔ جماعت کے مالیاتی سیکریٹری شمس الرحمٰن شمسی نے کارکنوں اور مختلف مقامی کونسلوں سے چندہ جمع ہونے کی تفصیلات بھی بیان کی تھیں۔ یہ اعدادوشمار اس وقت کے رہنماؤں اور ذرائع سے منسوب تھے، آزادانہ آڈٹ سے تصدیق شدہ نتائج نہیں۔
مدارس کے طلبہ سے رقم جمع کرنے کی رپورٹ نے مزید سوالات اٹھا دیے
اسی رپورٹ میں جے یو آئی (ف) کے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا کہ وفاق المدارس العربیہ پاکستان سے وابستہ مدارس میں دینی تعلیم حاصل کرنے والے تقریباً 10 ہزار طلبہ کے ذریعے لگ بھگ دو کروڑ روپے جمع کیے گئے۔ رپورٹ میں ایک طالب علم سے منسوب بیان کے مطابق ختمِ نبوت کانفرنسوں کے لیے فی طالب علم 100 روپے عطیہ دینے کی اپیل کی گئی تھی۔
یہاں ایک اہم وضاحت ضروری ہے 10 ہزار طلبہ سے فی کس 100 روپے جمع کیے جانے کی صورت میں رقم 10 لاکھ روپے بنتی ہے، دو کروڑ روپے نہیں۔ دستیاب رپورٹ اس فرق کی مکمل وضاحت نہیں کرتی۔ اسی لیے اصل رسیدوں، چندہ جمع کرنے کے ریکارڈ اور رقم کے استعمال کی تفصیلات سامنے آنا ضروری ہیں۔
اگر چندہ دینی کانفرنسوں یا کسی مخصوص مقصد کے لیے جمع کیا گیا تو اس کی تفصیل، وصولی کا طریقۂ کار اور اخراجات کا حساب فراہم کرنا شفافیت کے تقاضوں میں شامل ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس چندے اور مارچ کے دیگر مالی ذرائع کا مکمل حساب مرتب کیا گیا تھا؟ کیا اس کا کوئی آزادانہ آڈٹ ہوا؟ اور اگر ہوا تو اس کے نتائج کہاں دستیاب ہیں؟
مدارس کی تعداد اور آمدن کا حساب کہاں ہے؟
مولانا فضل الرحمان کی سرپرستی میں چلنے والے مدارس کی مصدقہ مجموعی تعداد اور ان کی مجموعی آمدن کے بارے میں الگ، جامع اور تازہ اعدادوشمار سامنے لانا ضروری ہے۔ وفاق المدارس العربیہ سے وابستہ تمام مدارس کو مولانا کی ذاتی ملکیت یا براہِ راست زیرِ انتظام ادارے قرار دینا درست نہیں؛ ہر مدرسے کی قانونی ملکیت، انتظامی اختیار اور مالی ذمہ داری الگ معاملہ ہے۔
تاہم مولانا کی سرپرستی میں چلنے والے مدارس کے بارے میں بنیادی معلومات واضح ہونی چاہییں: کتنے ادارے ہیں، کتنے طلبہ زیرِ تعلیم ہیں، سالانہ کتنی رقم عطیات اور نذرانوں کی صورت میں وصول ہوتی ہے، زکوٰۃ و صدقات کی مد میں کتنی آمدن آتی ہے، اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک سے کتنی مالی معاونت ملتی ہے، اور ان رقوم میں سے کتنی رقم تعلیم، رہائش، خوراک اور دیگر اخراجات پر صرف ہوتی ہے؟
یہ سوالات مدارس کے خلاف نہیں بلکہ مالی شفافیت کے حق میں ہیں۔ اگر حسابات مرتب اور آڈٹ شدہ ہیں تو ان کی تفصیلات سامنے آنے سے غیر ضروری شبہات دور ہو سکتے ہیں۔
نیب کا 26 نکاتی سوالنامہ بھی مالی معاملات سے متعلق تھا
دسمبر 2020 میں اے آر وائی نیوز سمیت مختلف میڈیا اداروں نے رپورٹ کیا کہ نیب نے مولانا فضل الرحمان کو 26 سوالات پر مشتمل سوالنامہ بھیجا تھا۔ اس میں ان کے اثاثوں، ذرائع آمدن، ڈیرہ اسماعیل خان میں 64 کنال زمین، بیٹے کے نام زرعی اراضی، بینک اکاؤنٹس، انتخابی اخراجات اور ان کی سرپرستی میں چلنے والے مدارس کی رجسٹریشن، اکاؤنٹس اور آمدن سے متعلق تفصیلات طلب کیے جانے کا ذکر تھا۔ جماعت کے اندرون و بیرونِ ملک بینک اکاؤنٹس اور فنڈز فراہم کرنے والوں کی معلومات بھی سوالنامے میں شامل بتائی گئی تھیں۔
دسمبر کے آخر میں سوالنامہ ڈاک کے ذریعے واپس آنے کی خبر بھی شائع ہوئی۔ تاہم اس کے بعد ان معاملات میں تحقیقات کا حتمی نتیجہ کیا نکلا، آیا مطلوبہ معلومات فراہم کی گئیں، کوئی ریفرنس دائر ہوا یا کارروائی ختم ہوئی، اس بارے میں دستیاب مذکورہ رپورٹیں حتمی جواب نہیں دیتیں۔ سوالنامہ بھیجا جانا بذاتِ خود کسی جرم یا مالی بے ضابطگی کا ثبوت نہیں۔
آڈٹ ہوا تو رپورٹ سامنے لائیں، نہیں ہوا تو وضاحت کریں
مدارس کے مالی حسابات اور سیاسی جماعتوں کی فنڈنگ کو الگ الگ دیکھنا ضروری ہے۔ کسی مدرسے کے چندے کو خودبخود جماعت کی آمدن یا کسی سیاسی سرگرمی کے اخراجات قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اسی طرح بیرونِ ملک سے عطیات آنے کے عمومی امکان کو کسی مخصوص جماعت یا مدرسے کے خلاف ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا۔
لیکن مولانا فضل الرحمان اور جے یو آئی (ف) سے یہ سوالات ضرور کیے جا سکتے ہیں آزادی مارچ کے لیے جمع ہونے والی رقم کا مکمل حساب کہاں ہے؟ مدارس کے طلبہ سے چندہ جمع کرنے کی رپورٹ کی تصدیق کے لیے کیا ریکارڈ موجود ہے؟ مدارس کی سالانہ آمدن و اخراجات کا آڈٹ کس نے کیا؟ کیا ہر متعلقہ ادارے کے بینک اکاؤنٹس اور مالی گوشوارے موجود ہیں؟ بیرونِ ملک سے ملنے والی مالی معاونت کی تفصیلات کس ریکارڈ میں درج ہیں؟ اور نیب کے سوالنامے کے بعد تحقیقات کہاں تک پہنچیں؟
عوام کا سوال واضح ہے مدارس کی تعداد، طلبہ سے وصول ہونے والے چندے، نذرانوں، زکوٰۃ، اندرون و بیرونِ ملک عطیات اور سیاسی فنڈنگ کا مکمل حساب کب سامنے آئے گا؟
اگر متعلقہ حسابات اور آڈٹ رپورٹس موجود ہیں تو انہیں قابلِ تصدیق صورت میں پیش کیا جانا چاہیے۔ اگر کسی مد میں آڈٹ نہیں ہوا تو اس کی وضاحت ہونی چاہیے۔ مالی شفافیت کا تقاضا کسی ایک سیاسی رہنما تک محدود نہیں؛ یہ ہر اس ادارے اور جماعت پر لاگو ہوتا ہے جو عوام، کارکنوں یا عطیہ دہندگان سے مالی معاونت حاصل کرتا ہے۔