پاکستان میں سائبر سیکیورٹی الرٹ، صارفین کو لوکیشن شیئرنگ میں احتیاط کی ہدایت

پاکستان میں سائبر سیکیورٹی الرٹ، صارفین کو لوکیشن شیئرنگ میں احتیاط کی ہدایت

پاکستان کی نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم نے نیشنل ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن کے اشتراک سے انٹرنیٹ صارفین کو خبردار کیا ہے کہ سوشل میڈیا اور دیگر آن لائن پلیٹ فارمز پر اپنی حقیقی وقت کی لوکیشن شیئر کرنا ذاتی رازداری اور ڈیجیٹل سیکیورٹی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔

سائبر سیکیورٹی آگاہی ماہ 2026 کے تحت جاری کردہ ہدایت نامے میں بتایا گیا ہے کہ لوکیشن ڈیٹا صرف کسی شخص کی موجودہ جگہ ہی ظاہر نہیں کرتا، بلکہ اس کی روزمرہ کی سرگرمیوں، معمولات اور آمدورفت کے بارے میں بھی اہم معلومات فراہم کرسکتا ہے۔

نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس کے مطابق، اس معلومات کی مدد سے شرپسند عناصر یہ معلوم کرسکتے ہیں کہ کوئی شخص کہاں رہتا ہے، کہاں کام کرتا ہے اور کن مقامات پر اکثر جاتا ہے۔ اس طرح صارفین کو غیر مجاز نگرانی، تعاقب اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:اوپن اے آئی کے ماڈل نے رقم چرانے کی کوشش کیوں کی؟ حیران کن انکشاف

ادارے نے خبردار کیا ہے کہ لوکیشن شیئرنگ سے یہ بھی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کوئی شخص کب گھر پر موجود ہے اور کب باہر گیا ہوا ہے۔ اس کے علاوہ کسی فرد کی مسلسل شیئر ہونے والی لوکیشن سے اس کے سماجی تعلقات اور ملاقاتوں کے بارے میں بھی معلومات سامنے آسکتی ہیں۔

صارفین اپنی حفاظت کیسے کریں؟

نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس نے انٹرنیٹ صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ ضرورت نہ ہونے پر لوکیشن شیئرنگ بند رکھیں اور اپنے موبائل فون، سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور دیگر ایپلی کیشنز کی پرائیویسی سیٹنگز کا باقاعدگی سے جائزہ لیں۔

یہ بھی پڑھیں:کیا اب کاریں بھی اُڑیں گی؟ ایلون مسک کی ٹیسلا روڈسٹر کی ویڈیو سامنے آگئی

صارفین کو یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ ذاتی معلومات آن لائن یا آف لائن شیئر کرتے وقت احتیاط کریں، خصوصاً ایسی ایپلی کیشنز استعمال کرتے ہوئے جو لائیو لوکیشن اپ ڈیٹس فراہم کرتی ہیں یا دوسروں کے ساتھ مقام شیئر کرنے کی سہولت دیتی ہیں۔

نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانساور نیشنل ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن کے مطابق، چند سادہ احتیاطی تدابیر اختیار کرکے ذاتی معلومات کو محفوظ رکھنے اور ڈیجیٹل خطرات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

editor

Related Articles