وزیراعظم بننے کے لیے فضل الرحمان نے امریکی سفارت خانے کے کتنے طواف کیے؟ امریکی سفیر کو کیا یقین دہانیاں کرائیں، ملاقاتوں کی اندرونی کہانی سامنے آگئی
Home - آزاد سیاست - وزیراعظم بننے کے لیے فضل الرحمان نے امریکی سفارت خانے کے کتنے طواف کیے؟ امریکی سفیر کو کیا یقین دہانیاں کرائیں، ملاقاتوں کی اندرونی کہانی سامنے آگئی
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی امریکی حکام سے ملاقاتوں سے متعلق وکی لیکس کی سفارتی دستاویزات میں ایسے انکشافات سامنے آئے ہیں جو ان کی سیاسی حکمتِ عملی اور اقتدار کے حصول کے لیے سفارتی رابطوں کے حوالے سے سوالات اٹھاتے ہیں۔
وکی لیکس پر جاری امریکی سفارتی کیبل کے مطابق 20 نومبر 2007 کو امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن نے مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں مولانا عبدالغفور حیدری، سینیٹر طلحہ محمود، سینیٹر اعجاز سواتی اور ملک سکندر خان بھی شریک تھے۔ دستاویزات کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے امریکی سفیر اور دیگر عملہ کے اعزاز میں عشائیہ بھی دیا جس میں وہ امریکیوں کی قربت حاصل کرنا چاہتے تھے
سفارتی دستاویز کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے امریکی سفیر سے براہِ راست پوچھا کہ اگر وہ پاکستان کے وزیراعظم بن جاتے ہیں تو کیا امریکی حکومت ان کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہوگی؟ اس سوال نے ان کی سیاسی حکمتِ عملی میں امریکی حمایت کی اہمیت کے حوالے سے سوالات کو جنم دیا۔ دستاویزات میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ مولانا وزیراعظم بننے کیلئے امریکی حمائت کے خواہش مند ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ امریکہ انہیں وزارت عظمی کے طور پر سپورٹ کرے وہ امریکا کو مایوس نہیں کریں گے
اس ملاقات سے متعلق سفارتی کیبل میں امریکی سفیر این پیٹرسن کا ایک اہم تبصرہ بھی درج ہے۔ انہوں نے لکھا کہ مولانا فضل الرحمان اپنے ممکنہ فیصلہ کن انتخابی کردار سے لطف اندوز ہوتے دکھائی دیتے تھے اور انہوں نے واضح کر دیا تھا کہ ان کے پاس موجود قابلِ ذکر ووٹ فروخت کے لیے دستیاب ہیں۔
یہ الفاظ امریکی سفیر کا اپنا سیاسی تاثر تھے؛ سفارتی دستاویز میں کسی مخصوص مالی ادائیگی یا ووٹوں کی فروخت کے ثابت شدہ معاہدے کا ذکر نہیں۔ تاہم امریکی سفیر کے اس تبصرے نے مولانا کی انتخابی سیاست اور ممکنہ سیاسی سودے بازی کے حوالے سے اہم سوالات ضرور اٹھائے۔
اسی سفارتی ریکارڈ کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے امریکی دورے اور امریکی کانگریس و تھنک ٹینکس میں رابطوں کے ذریعے اپنی جماعت کے لیے حمایت حاصل کرنے کی خواہش بھی ظاہر کی۔ ملاقات میں موجود ان کے ساتھی مولانا عبدالغفور حیدری نے بھی امریکی حکومت کے ساتھ رابطے بڑھانے کی ضرورت پر بات کی۔
وکی لیکس کی ایک دوسری سفارتی دستاویز کے مطابق 28 مارچ 2008 کو مولانا فضل الرحمان نے امریکی محکمہ خارجہ کے اسسٹنٹ سیکریٹری رچرڈ باؤچر سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں انہوں نے امریکی حکام کو طالبان تک سیاسی رابطے کا پیغام پہنچانے میں مدد دینے کی پیشکش کی۔ یہ تفصیل اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مولانا امریکی حکام کے ساتھ سفارتی رابطوں میں اپنا کردار پیش کرنے کے لیے بھی سرگرم تھے۔
ان سفارتی دستاویزات میں درج واقعات مولانا فضل الرحمان کی سیاسی حکمتِ عملی کے ایک ایسے پہلو کو سامنے لاتے ہیں جس میں انتخابی قوت، ممکنہ وزارتِ عظمیٰ، امریکی حمایت کے بارے میں سوال اور امریکی حکام کے ساتھ رابطے اہم موضوعات تھے۔ امریکی سفیر کی جانب سے ووٹوں کو ’’فروخت کے لیے دستیاب‘‘ قرار دینا اس ریکارڈ کا سب سے نمایاں اور قابلِ بحث حصہ ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مولانا اقتدار کیلئے امریکا کا ہر مطالبہ پورا کرنے کیلئے تیار تھے وزارت عظمی کیلئے ان کی طرف سے پیشکشیں ان کی سیاسی خواہشات کی تکمیل کیلئے اپنے بظاہر روپ اور نظریہ سے مطابقت نہیں رکھتے۔