ملبہ ہٹا، یادیں نہ مٹ سکیں،21 سال گزر گئے،8 اکتوبر سانحہ زلزلہ کے زخم آج بھی تازہ

آزاد کشمیر اور خیبر پختونخوا میں تباہی مچانے والے سانحہ 8 اکتوبر 2005 کو 21 برس مکمل ہوگئے۔

8 اکتوبر 2005 کو آنے والے شدید زلزلے کی شدت 7.6 ریکارڈ کی گئی تھی۔ اس قدرتی آفت نے ہزاروں خاندانوں کی زندگیاں بدل دیں۔

زلزلے سے آزاد کشمیر اور خیبر پختونخوا کے کئی علاقے شدید متاثر ہوئے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس سانحے میں 86 ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہوئے۔

آزاد کشمیر سب سے زیادہ متاثر

آزاد کشمیر میں زلزلے نے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلائی۔ مظفرآباد سمیت کئی علاقوں میں جانی اور مالی نقصان ہوا۔

رپورٹ کے مطابق آزاد کشمیر کی تقریباً 56 فیصد آبادی اس قدرتی آفت سے متاثر ہوئی۔ متعدد علاقوں میں معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوئے۔

زلزلے نے گھروں کے ساتھ عوامی سہولتوں کو بھی شدید نقصان پہنچایا۔ صحت، تعلیم، پانی اور مواصلات کا نظام متاثر ہونے والے شعبوں میں شامل تھا۔

بنیادی ڈھانچے کو نقصان

رپورٹ کے مطابق آزاد کشمیر کے 53 فیصد رقبے میں صحت، تعلیم، پانی کی فراہمی اور نکاسی آب کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہوا۔

مواصلاتی نظام کو بھی نقصان پہنچا۔ کئی علاقوں میں لوگوں کو بنیادی سہولتوں کی بحالی کے لیے طویل انتظار کرنا پڑا۔

 یہ بھی پڑھیں :پاکستان 2سال میں معاشی بحران سے نکل جائے گا : رانا ثناء اللہ

اس سانحے میں تعلیمی اداروں کو بھی بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ اسکول، کالج اور جامعات متاثر ہونے والی عمارتوں میں شامل تھیں۔

تعمیرات پر سوال

ماہرین کے مطابق زلزلے میں ہونے والے بڑے نقصان کی ایک اہم وجہ ناقص تعمیرات بھی تھی۔

متعدد تعلیمی اداروں کی عمارتیں زلزلہ مزاحم معیار کے مطابق تیار نہیں تھیں۔ قدرتی آفت کے مقابلے کے لیے مناسب تیاری بھی موجود نہیں تھی۔

اس صورتحال نے مستقبل میں زلزلوں سے تحفظ کے لیے تعمیراتی معیار بہتر بنانے کی ضرورت کو نمایاں کیا۔

تعمیر نو کا سفر

حکومت پاکستان نے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں تعمیر نو کا عمل شروع کیا۔ تعلیمی اور صحت کے شعبوں کے لیے مختلف منصوبے مکمل کیے گئے۔

رپورٹ کے مطابق متاثر ہونے والے 2 ہزار 718 تعلیمی اداروں میں سے ایک ہزار 620 مکمل ہوچکے ہیں۔

مزید 501 تعلیمی اداروں پر تعمیراتی کام جاری ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تعمیر نو کا عمل کئی برس بعد بھی مکمل نہیں ہوا۔

صحت کے منصوبے

صحت کے شعبے میں بھی زلزلے سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کے لیے منصوبے شروع کیے گئے۔

رپورٹ کے مطابق صحت کے 160 منصوبوں میں سے 119 مکمل کیے جاچکے ہیں۔ مزید 21 منصوبوں پر کام جاری ہے۔

متاثرہ علاقوں میں صحت کی سہولتوں کی بحالی بھی تعمیر نو کے اہم حصوں میں شامل رہی ہے۔

ایک ارب روپے کی منظوری

رپورٹ کے مطابق جون 2026 میں وزیراعظم نے آزاد کشمیر حکومت کی درخواست پر ایک ارب روپے فراہم کیے۔

 یہ بھی پڑھیں :سوات اور گرد ونواح میں شدید زلزلہ ،خوف وہراس ، شہری گھروں سے نکل آئے

یہ رقم زیر تعمیر تعلیمی اداروں کی تکمیل کے لیے استعمال کی جانی ہے۔ حکام کے مطابق 67 تعلیمی اداروں کی تعمیر دسمبر 2026 تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔

حکام نے تعمیر نو کے باقی کاموں کو مکمل کرنے کے لیے مزید مالی وسائل کی ضرورت بھی ظاہر کی ہے۔

44 ارب روپے درکار

آزاد کشمیر میں زلزلے سے متاثرہ علاقوں کی مکمل تعمیر نو کے لیے اب بھی 44 ارب روپے درکار ہیں۔

21 سال گزرنے کے باوجود تعمیر نو کے کچھ منصوبے مکمل نہیں ہوسکے۔ اس صورتحال نے متاثرہ علاقوں میں بحالی کے عمل کی رفتار پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔

زلزلے کی تباہی ختم ہوئے دو دہائیاں گزر چکی ہیں۔ تاہم متاثرہ علاقوں میں تعمیر نو کا سفر اب بھی جاری ہے۔

زخم آج بھی تازہ

8 اکتوبر 2005 کا سانحہ آج بھی متاثرہ خاندانوں کے لیے ایک تلخ یاد ہے۔ اس زلزلے نے ہزاروں خاندانوں سے ان کے پیارے چھین لیے۔

قدرتی آفت کے کئی برس بعد بھی اس کے اثرات مختلف شعبوں میں نظر آتے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں جاری تعمیراتی منصوبے اسی حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں۔

21 برس بعد بھی 8 اکتوبر کا دن متاثرین کے لیے دکھ اور یاد کا دن ہے۔ اس سانحے نے پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کی اہمیت بھی اجاگر کی۔

editor

Related Articles