خواجہ آصف نے پی ٹی آئی کی لوٹ ماربے نقاب کردی،محض 4 سالوں میں معدنیات کے ریکارڈ 4917 لائسنس جاری کیے

خواجہ آصف نے پی ٹی آئی کی لوٹ ماربے نقاب کردی،محض 4 سالوں میں معدنیات کے ریکارڈ 4917 لائسنس جاری کیے

وزیر دفاع خواجہ آصف نے واضح کیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں معدنیات کے لائسنسز کی بھاری تعداد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے دورِ حکومت میں جاری کی گئی، جبکہ عسکری اداروں کا اس شعبے میں کوئی حصہ نہیں ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنی تفصیلی پوسٹ میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے سرکاری اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے بتایا کہ خیبر پختونخوا میں معدنیات کے لائسنسز اور ٹائٹلز کی حقیقت بالکل عیاں ہے۔

 قیامِ پاکستان سے لے کر 2010 تک صوبے میں معدنیات کے صرف 482 لائسنس جاری کیے گئے تھے۔ تاہم اس کے بعد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی صوبائی حکومتوں کے طویل دورِ اقتدار میں اس تعداد میں انتہائی تیزی سے اضافہ ہوا۔

اعداد و شمار کے مطابق سال 2020 تک یہ تعداد بڑھ کر 1,762 ہو گئی، فروری 2024 تک یہ بڑھ کر 3,962 تک پہنچی، اور موجودہ وقت میں صوبے بھر میں کل جاری ہونے والے مائننگ لائسنسز کی تعداد 4,917 ہو چکی ہے۔ ان میں سے 4,133 لائسنس آباد اضلاع جبکہ 784 لائسنس ضم شدہ اضلاع میں جاری کیے گئے۔

عسکری اداروں کے کردار سے متعلق وضاحت

خواجہ آصف نے اپنے بیان میں عسکری اداروں کے حوالے سے گردش کرنے والی افواہوں کی نفی کرتے ہوئے کہا کہ اس پورے طویل عرصے کے دوران عسکری ادارے ’فرنٹئیر ورکس آرگنائزیشن‘ (ایف ڈبلیو او) کو صرف ایک لائسنس جاری کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:’نئے سیٹ اپ میں حصہ نہ ملا تو رونا شروع کر دیا‘خواجہ آصف نے فضل الرحمن کی اصلیت بے نقاب کر دی

جو 2015 میں شمالی وزیرستان کے علاقے بویا میں دیا گیا تھا جہاں یہ ادارہ تعمیراتی اور بحالی کے اہم کاموں میں مصروف رہا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اس وقت بھی 500 سے زیادہ نئی درخواستیں زیرِ غور ہیں، جن میں سے ایک بھی درخواست کسی عسکری ادارے کی جانب سے نہیں دی گئی۔

مختصر یہ کہ معدنیات کے لائسنسز کی ایک بہت بڑی تعداد پی ٹی آئی کے دورِ حکومت ہی میں جاری ہوئی، جبکہ عسکری اداروں کا اس شعبے میں براہِ راست حصہ سرے سے تھا ہی نہیں۔

کسی بھی صوبے کے معدنی اور قدرتی وسائل کا انتظام اور شفاف طریقے سے لائسنسز کا اجرا صوبائی حکومتوں کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہوتا ہے۔

خیبر پختونخوا جیسے معدنی دولت سے مالامال صوبے میں پچھلی ایک دہائی کے دوران مائننگ لائسنسز کی تعداد میں اس قدر ڈرامائی اضافہ اس بات کا متقاضی ہے کہ اس پورے عمل کی مکمل شفافیت کو پرکھا جائے۔

مزید پڑھیں:سوشل میڈیا پر جمائما گولڈ اسمتھ اور خواجہ آصف آمنے سامنے، نوک جھونک پر نئی بحث

ماضی میں جب بھی وسائل کی تقسیم اور لائسنسنگ کے طریقہ کار پر سوالات اٹھائے گئے، تو سیاسی حلقوں میں گرما گرم بحث دیکھنے میں آئی۔

اس تناظر میں وزیر دفاع کی جانب سے جاری کردہ یہ حقائق اور اعداد و شمار نہ صرف اس شعبے میں پالیسیوں کے تسلسل کو بے نقاب کرتے ہیں بلکہ یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ وسائل کی اس بندرباٹ میں عسکری اداروں کو بلاوجہ ملوث کرنے کے بیانیے میں کوئی صداقت نہیں ہے اور اصل ذمہ داری صوبے پر قابض سیاسی قیادت کے فیصلوں پر عائد ہوتی ہے۔

Related Articles