’نئے سیٹ اپ میں حصہ نہ ملا تو رونا شروع کر دیا‘خواجہ آصف نے فضل الرحمن کی اصلیت بے نقاب کر دی

’نئے سیٹ اپ میں حصہ نہ ملا تو رونا شروع کر دیا‘خواجہ آصف نے فضل الرحمن کی اصلیت بے نقاب کر دی

وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان کی قیمتی معدنیات میں امریکا، چین، کینیڈا اور آسٹریلیا سمیت کئی ممالک دلچسپی رکھتے ہیں۔ تاہم ابھی تک معدنیات سے متعلق کوئی ٹھیکا یا کان امریکا کے حوالے نہیں کی گئی۔

خواجہ آصف کے مطابق معدنی وسائل کے معاملے پر فی الحال بات چیت جاری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی ملک کو کان یا معدنیات کا ٹھیکا دینے کا فیصلہ نہیں ہوا۔

وزیر دفاع نے کہا کہ دنیا کو معلوم ہے کہ پاکستان قیمتی معدنی وسائل رکھتا ہے۔ ان وسائل کو نکالنے کے لیے بیرونی سرمایہ کاری ضروری ہے۔ پاکستان ان ممالک کے ساتھ کام کرے گا جن کے ساتھ تعاون کو محفوظ سمجھا جائے گا۔

معدنیات میں دلچسپی

خواجہ آصف نے بتایا کہ پاکستان کے معدنی وسائل میں متعدد ممالک دلچسپی رکھتے ہیں۔ ان میں امریکا، چین، کینیڈا اور آسٹریلیا شامل ہیں۔

 یہ بھی پڑھیں :وزیر دفاع خواجہ آصف نے ’’آئی ایم ایف‘‘ سے چھٹکارے کی نوید سنادی

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ان وسائل سے فائدہ اٹھانے کے لیے سرمایہ کاری درکار ہے۔ ان کے مطابق بیرونی سرمایہ کاری کے بغیر ان معدنیات کو نکالنا ممکن نہیں ہوگا۔

وزیر دفاع کی وضاحت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب پاکستان کے معدنی وسائل میں غیر ملکی سرمایہ کاری اور ممکنہ معاہدوں پر گفتگو جاری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دلچسپی ظاہر کرنے اور باقاعدہ ٹھیکا دینے میں فرق ہے۔

خیبرپختونخوا میں دہشتگردی

خواجہ آصف نے الزام عائد کیا کہ خیبرپختونخوا کی سابق حکومت دہشتگردی کے خلاف جنگ میں وفاقی حکومت سے تعاون نہیں کر رہی تھی۔ ان کے مطابق دہشتگردوں کے ٹھکانوں کی معلومات ہونے کے باوجود کارروائی نہیں کی جاتی تھی۔

وزیر دفاع نے دعویٰ کیا کہ صوبائی حکومت کی خاموشی کے باعث دہشتگردی میں اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران دہشتگردانہ کارروائیوں میں زیادہ جانی نقصان ہوا۔

خواجہ آصف کے مطابق موجودہ صورتحال میں دہشتگردی کے خلاف قومی اتحاد کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب صوبائی حکومت کو بھی اس جنگ میں فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔

حکومتی رٹ ضروری

خواجہ آصف نے کہا کہ انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر آپریشن کے بعد صوبائی حکومت کو اپنی رٹ قائم کرنا ہوگی۔ ان کے مطابق ایسا نہ ہونے کی صورت میں دہشتگرد دوبارہ اپنے قدم جما سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کو دہشتگردی سے نجات دلانا مشترکہ مقصد ہونا چاہیے۔ وزیر دفاع کے مطابق کارروائیوں کے بعد صوبائی حکومت کو امن و امان برقرار رکھنے کے لیے متحرک ہونا ہوگا۔

خواجہ آصف نے امید ظاہر کی کہ صوبائی حکومت دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں کے ساتھ حکومتی عمل داری قائم کرنے میں بھی کردار ادا کرے گی۔

گورنر راج پر مؤقف

خواجہ آصف نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج نافذ کرنے کا منصوبہ پہلے سے موجود نہیں تھا۔ ان کے مطابق تمام دستیاب راستے اختیار کرنے کے بعد ہی آخری آپشن پر غور کیا جاتا ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :مودی نے پہلے جنگ کے میدان میں اب بین الاقوامی عدالت میں بھارت کو ذلیل کرا دیا، خواجہ آصف

انہوں نے کہا کہ گورنر راج کے مخالفین میں بعض افراد نئے انتظامی سیٹ اپ میں اپنا کردار چاہتے تھے۔ ان کے بقول کردار نہ ملنے پر مخالفت کی جا رہی ہے، جس سے صوبے کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

وزیر دفاع نے مخالفین پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک شخصیت کی سیاست کر رہے تھے۔ ان کے مطابق صوبے کے عوام ان کے سیاسی ایجنڈے میں ترجیح نہیں رکھتے تھے۔

محسن نقوی کی گفتگو

خواجہ آصف نے پارلیمنٹ میں وزیر داخلہ محسن نقوی کی گفتگو کو درست قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ محسن نقوی کی آواز سے خلوص جھلک رہا تھا۔

وزیر دفاع نے دعویٰ کیا کہ سہیل آفریدی کو مراد سعید کے کہنے پر وزیراعلیٰ بنایا گیا تھا۔ انہوں نے مراد سعید اور بانی پی ٹی آئی کو ایک سکے کے دو رخ قرار دیا۔

یہ بیانات خواجہ آصف کی سیاسی رائے اور الزامات پر مبنی ہیں۔ متعلقہ رہنماؤں کا مؤقف سامنے آنے پر معاملے کی دوسری جانب بھی واضح ہو سکتی ہے۔

فوری انتخابات کا معاملہ

خواجہ آصف نے کہا کہ پی ڈی ایم حکومت بننے کے بعد ایک اجلاس میں فوری انتخابات کے معاملے پر بات ہوئی تھی۔ ان کے مطابق اس اجلاس میں مختلف سیاسی رہنما شریک تھے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ مسلم لیگ ن فوری انتخابات کے حق میں تھی۔ تاہم ان کے بقول بعض دیگر رہنما مزید ایک سال تک حکومت چلانے کے خواہاں تھے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ عدم اعتماد کی تحریک کے بعد انہوں نے شہباز شریف کو ایک ماہ میں انتخابات کرانے کا مشورہ دیا تھا۔ ان کے مطابق اس دوران سیاسی حالات تبدیل ہوگئے۔

اقتدار کی سیاست پر تنقید

وزیر دفاع نے الزام عائد کیا کہ مخالفین کی توجہ اقتدار اور مالی مفادات پر مرکوز رہی۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے پر بعض افراد کو سیاسی کردار نہ ملنے کا دکھ ہے۔

خواجہ آصف نے ماضی کی سیاسی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کے کردار کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق مشرف دور میں مولانا فضل الرحمان اپوزیشن لیڈر تھے جبکہ متحدہ مجلس عمل کی حکومت بھی موجود تھی۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی اپوزیشن لیڈر کا منصب چاہتی تھیں، لیکن انہیں یہ موقع نہیں ملا۔ خواجہ آصف کے مطابق بعد میں مولانا فضل الرحمان ان کے سیاسی ساتھی بھی رہے۔

شہدا کے جنازوں پر سوال

خواجہ آصف نے بانی پی ٹی آئی کے بھارت سے متعلق ایک سابق بیان کا حوالہ دیتے ہوئے پی ٹی آئی اور جمعیت علمائے اسلام پر تنقید کی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ان جماعتوں کے رہنما شہدا کے ساتھ کھڑے ہوئے؟

وزیر دفاع نے دعویٰ کیا کہ ان جماعتوں کے رہنما شہدا کے جنازوں میں شریک نہیں ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ان رہنماؤں کو شہدا کے جنازوں میں شرکت کرنی چاہیے تھی۔

خواجہ آصف کے یہ بیانات سیاسی اختلافات اور دہشتگردی کے معاملے پر حکومت کے مؤقف کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان الزامات پر متعلقہ جماعتوں کا ردعمل سامنے آنے سے بحث کے مختلف پہلو واضح ہوسکتے ہیں۔

editor

Related Articles