حکومت کا پی ٹی آئی سے مذاکرات کے لیے ایمرجنسی واپس لینے کی شرط ماننے سے انکار

حکومت کا پی ٹی آئی سے مذاکرات کے لیے ایمرجنسی واپس لینے کی شرط ماننے سے انکار

حکومت نے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کے لیے وزیراعظم ہاؤس کے علاوہ کسی تیسرے مقام کے تعین کی شرط مسترد کر دی ہے، جبکہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی واپس لینے کی شرط پر بھی پی ٹی آئی سے مذاکرات کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کی ملاقات وزیراعظم ہاؤس میں ہی ممکن ہے، اس کے علاوہ کسی دوسرے مقام پر ملاقات کے لیے اصرار قابلِ قبول نہیں۔

رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی واپس لینے کی شرط پر پی ٹی آئی سے مذاکرات نہیں ہو سکتے۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون کرے تو اس معاملے پر بات چیت ہو سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:موسمِ سرما میں پنجاب کی عدالتوں کے اوقات کیا ہوں گے؟ تفصیلات سامنے آگئیں

انہوں نے بتایا کہ چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے ارکان کی تقرری کے لیے وزیراعظم شہباز شریف نے اپوزیشن لیڈر کو دو خطوط لکھے ہیں، تاہم ان کے جواب کا انتظار ہے۔

وزیراعظم کے مشیر نے اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی سے کہا کہ وہ وزیراعظم سے ملاقات کے لیے اپنی دستیابی بتائیں اور واضح کریں کہ کب وزیراعظم ہاؤس تشریف لا رہے ہیں۔

دوسری جانب وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی لانگ مارچ کرے یا شارٹ مارچ، حکومت کو اس پر مسئلہ نہیں، تاہم دہشت گردی کے معاملے پر بات ہونی چاہیے۔

Qaisar Mirza
editor

Related Articles