ڈپٹی اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی ثریا بی بی کے خلاف سرکاری گاڑی واپس نہ کرنے پر مقدمہ درج

ڈپٹی اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی ثریا بی بی کے خلاف سرکاری گاڑی واپس نہ کرنے پر مقدمہ درج

خیبرپختونخوا اسمبلی کی ڈپٹی اسپیکر ثریا بی بی قانونی مسائل کا شکار ہو گئی ہیں، جہاں ان کے خلاف سرکاری گاڑی واپس نہ کرنے کی پاداش میں باقاعدہ ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔ 

یہ مقدمہ ڈپٹی کمشنر چترال کی جانب سے درج کرایا گیا ہے۔ درج کی گئی ایف آئی آر کے متن کے مطابق ثریا بی بی نے اسمبلی کی جانب سے ملنے والی سرکاری گاڑی تحویل میں رکھی ہوئی ہے اور مقررہ وقت اور ضوابط کے مطابق اسے ضلعی انتظامیہ کو واپس منتقل نہیں کیا۔

یہ بھی پڑھیں:خواجہ آصف نے پی ٹی آئی کی لوٹ ماربے نقاب کردی،محض 4 سالوں میں معدنیات کے ریکارڈ 4917 لائسنس جاری کیے

نجی ٹی وی کے مطابق دوسری جانب اس قانون جوئی پر ڈپٹی اسپیکر کے خاندانی ذرائع کا اہم ردِعمل بھی سامنے آیا ہے۔ خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ ثریا بی بی لانگ مارچ کے روز سے کہاں موجود ہیں، اس کے بارے میں ان کے پاس بھی کوئی حتمی معلومات نہیں ہیں۔ خاندانی ذرائع کے مطابق ثریا بی بی کو بطور رکنِ اسمبلی منتخب ہونے پر ضلعی انتظامیہ کی جانب سے یہ گاڑی فراہم کی گئی تھی۔

اہل خانہ نے مزید بتایا کہ انہوں نے خود آگے بڑھ کر ڈپٹی کمشنر چترال کے دفتر کو کئی مرتبہ ٹیلی فون کر کے گاڑی تحویل میں لینے اور لے جانے کا کہا ہے، تاہم انتظامیہ کا کوئی بھی نمائندہ یا اہلکار گاڑی کی واپسی کے لیے نہیں آ رہا۔

صوبے میں پیدا ہونے والی حالیہ سیاسی تبدیلیوں، ایمرجنسی صورت حال اور سیاسی قیادت کے خلاف جاری انتظامی کارروائیوں کے تناظر میں یہ پیش رفت انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہے۔

سیاسی رہنماؤں اور منتخب نمائندوں کے خلاف سرکاری املاک کے استعمال یا عدم واپسی پر اس نوعیت کے قانونی اقدامات صوبائی انتظامیہ کے سخت مؤقف کی عکاسی کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں:خیبر پختونخوا میں انتظامی امور پی ٹی آئی کی نااہلی کے پنجے سے آزاد، 13 سالوں سے رکے منصوبے شروع، عوام میں خوشی کی لہر

جہاں ایک طرف انتظامیہ قانون پر عمل درآمد کا بیانیہ پیش کر رہی ہے، وہیں دوسری طرف اہل خانہ کا یہ موقف کہ وہ گاڑی واپس دینے کے لیے خود رابطے کر رہے ہیں، اس پورے معاملے میں انتظامی ربط کی کمی اور سیاسی تحرک کو نمایاں کرتا ہے۔

ایسے واقعات جہاں منتخب نمائندوں کی عدم موجودگی کا مسئلہ درپیش ہو، انتظامی و قانونی توازن برقرار رکھنا حد درجے حساس صورت اختیار کر جاتا ہے۔

Related Articles