تجارتی سرگرمیوں کا نیا دور شروع ہونے کو، پاک ایران سرحد دوبارہ کھلنے کے لئے تیار، تاجروں میں خوشی کی لہردوڑ گئی

تجارتی سرگرمیوں کا نیا دور شروع ہونے کو، پاک ایران سرحد دوبارہ کھلنے کے لئے تیار، تاجروں میں خوشی کی لہردوڑ گئی

پاک ایران سرحد کی بندش کے معاملے پر دونوں ممالک کے حکام کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطہ ہوا ہے، جس میں بات چیت انتہائی مثبت رہی اور سرحد جلد کھلنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ مذاکرات میں پیشرفت کی اطلاعات کے بعد تاجروں میں اطمینان کی لہر دوڑ گئی ہے، جبکہ سرحدی تجارت سے وابستہ کاروباری حلقے تجارتی سرگرمیوں کی بحالی کے منتظر ہیں۔

پاکستان اور ایران کے درمیان سرحد کی مجموعی لمبائی 909 کلومیٹر ہے، جو بلوچستان کے مختلف علاقوں سے گزرتی ہے۔ یہ سرحد دونوں ممالک کے درمیان تجارت، آمدورفت اور معاشی روابط کے لیے اہمیت رکھتی ہے۔ تفتان اور گبد-ریمدان سمیت مختلف سرحدی گزرگاہوں کے ذریعے تجارتی سامان کی نقل و حرکت ہوتی ہے۔ تفتان کے راستے ایران سے پاکستان کو مختلف اشیائے ضروریہ درآمد کی جاتی ہیں، جبکہ پاکستان سے بھی چاول، پھل، گوشت اور دیگر مصنوعات ایران برآمد کی جاتی ہیں۔

پاک ایران سرحدی تجارت بلوچستان کی معیشت اور سرحدی علاقوں میں روزگار کے لیے بھی اہم ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارت سے تاجروں، ٹرانسپورٹرز، کسٹمز کلیئرنگ ایجنٹس اور دیگر کاروباری طبقات کا روزگار وابستہ ہے۔ سرحدی گزرگاہوں پر تجارتی سرگرمیاں متاثر ہونے سے سامان کی ترسیل اور کاروباری معاملات میں مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: عالمی معیشت کے لیے بڑی خبر،آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی کے لیے ایرانی فوج کا اہم فیصلہ

ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی اور خطے میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال نے بھی تجارتی راستوں اور سامان کی ترسیل کو متاثر کیا ہے۔ تاہم دستیاب سرکاری معلومات کے مطابق جون 2026 میں گبد-ریمدان سرحدی گزرگاہ سے ایل پی جی کی درآمد جاری تھی، اس لیے یہ تصدیق نہیں ہو سکی کہ پاک ایران کی پوری سرحد ایران امریکہ کشیدگی کے باعث کسی ایک تاریخ سے مکمل طور پر بند ہے۔

دونوں ممالک کے حکام کے درمیان حالیہ رابطوں اور مثبت مذاکرات سے سرحدی تجارت کی بحالی کی امید پیدا ہوئی ہے۔ تاجروں کو توقع ہے کہ بات چیت کے نتیجے میں سرحد کھولنے کے حوالے سے پیشرفت ہوگی اور تجارتی سرگرمیاں معمول پر آنے سے کاروباری معاملات میں بہتری آئے گی۔

Related Articles