فرانس : طلبہ کے ملک گیر مظاہرے، وزیراعظم نے ہائی اسکول کی کلاسز معطل کر دیں

فرانس : طلبہ کے ملک گیر مظاہرے، وزیراعظم نے ہائی اسکول کی کلاسز معطل کر دیں

پیرس کے ایک سکول سے شروع ہونیوالا احتجاج پورے ملک میں پھیل گیا ، فرانس کے وزیراعظم نے ملک بھر میں بڑھتے مظاہروں کے بعد ہائی اسکول کی کلاسوں میں ہفتے بھر کیلیے پڑھائی معطل کردی۔ 

میڈیا رپورٹ کے مطابق فرانس میں طلبہ نے منگل کو ملک گیر مظاہرے کیے، جن میں ڈھائی لاکھ سے زائد افراد نے شرکت کی، دو ہفتوں سے جاری احتجاج کے دوران گرفتار افراد کی تعداد پانچ ہزار سے بھی بڑھ گئی ہے جن میں زیادہ تر کمسن ہیں۔

طلبہ تنظیم کی کال پر پیرس میں مرکزی مظاہرہ پرامن تھا تاہم کشیدگی بڑھتی گئی، والٹئیر بولیوارڈ سمیت مختلف علاقوں میں طلبہ نے اسٹورز اور دفاتر کے شیشے توڑ دیے۔

طلبہ دفاتر میں بھی گھس گئے جہاں توڑ پھوڑ کی گئی اور پولیس پر پیٹرول بم سے حملے بھی کیے گئے۔

مظاہرین کو منتشر کرنے کیلیے پولیس نے اسٹن گرنیڈز اور آنسو گیس کا استعمال کیا جس سے کئی طلبہ زخمی ہوئے، ایسے ہی مظاہرے کئی دیگر بڑے شہروں میں بھی کیے گئے ہیں، صرف پیر کو سوا چار سو تعلیمی اداروں پر حملے کیے گئے تھے۔

مظاہروں کی وجہ کیا ہے؟

یہ تحریک 17 ستمبر کو پیرس کے ایک اسکول سے شروع ہوئی جس میں طلبہ کا کہنا ہے کہ اساتذہ کی بار بار غیر حاضری، طویل اسکول کے اوقات اور خستہ حال عمارتوں نے ان کی تعلیم متاثر کر رکھی ہے،  مظاہرین اساتذہ کی کمی دور کرنے، اعلیٰ تعلیمی اداروں میں زیادہ نشستوں اور ہنگامی بنیادوں پر مزید اسکول بنانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

حکومت کا ردعمل

وزیراعظم سیباستیاں لیکورنو نے ہنگامی اجلاس میں  وزرا سے سرکاری دورے منسوخ کرنے کو کہا تاکہ حکام اور پولیس مظاہروں سے نمٹنے پر توجہ دے سکیں۔

یہ بھی پڑھیں :سیکیورٹی خدشات ، امریکا نے برطانوی ایئر بیس سے تمام بمبار طیارے واپس بلا لیے

وزیر داخلہ نے پولیس کو ہدایت کی ہے کہ طلبہ کو کلاس میں جانے سے روکنے والی رکاوٹیں ہٹائی جائیں اور تشدد اور توڑ پھوڑ کو روکا جائے۔

گرفتاریاں اور انسانی حقوق کے خدشات

فرانسیسی وزیر داخلہ کے مطابق ایک ہفتے میں 5 ہزار سے زائد افراد گرفتار ہوئے، جن میں 85 فیصد نابالغ تھے ، اس حوالے سے  ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا کہ مظاہرین کی بات سنی جانی چاہیے، انہیں دبایا نہ جائے ، اس صورتِ حال نے حکومت پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔

editor

Related Articles