سردیوں سے قبل ایل پی جی کی ذخیرہ اندوزی اور50 فیصد مہنگے داموں فروخت، سخت حکومتی نوٹس، فوری اقدامات کا حکم

سردیوں سے قبل ایل پی جی کی ذخیرہ اندوزی اور50 فیصد مہنگے داموں فروخت، سخت حکومتی نوٹس، فوری اقدامات کا حکم

سردیوں سے قبل ایل پی جی کی ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی بحران کا نوٹس لیتے ہوئے حکومت اور اوگرا نے کریک ڈاؤن کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔

حکومت نے ونٹر سیزن سے قبل مائع پیٹرولیم گیس یعنی ایل پی جی کی مبینہ ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی بحران پیدا کرنے کی کوششوں کا سخت نوٹس لیتے ہوئے تمام متعلقہ وفاقی و صوبائی اداروں کو مشترکہ کریک ڈاؤن کی ہدایت کی ہے۔

اس نوٹس کے بعد آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی یعنی اوگرا نے صوبائی حکومتوں اور پورٹ اتھارٹیز کو مارکیٹ میں گیس کی مقررہ قیمتوں پر دستیابی یقینی بنانے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔

سرکاری نرخوں کی خلاف ورزی اور گیس کی بلیک مارکیٹنگ

مارکیٹ میں اوگرا کی مقرر کردہ سرکاری قیمت 3296 روپے فی 11.8 کلوگرام گھریلو سلنڈر کے برعکس ایل پی جی کو تقریباً 50 فیصد زائد قیمت یعنی 5000 روپے میں فروخت کیے جانے کی اطلاعات پر یہ اقدام اٹھایا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایل پی جی کی قیمت میں بڑا اضافہ، گھریلو سلنڈر مزید مہنگا ہوگیا

پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے چیئرمین اوگرا اور ڈائریکٹر جنرل ایل پی جی کو لکھے گئے ایک خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ امپورٹرز کی جانب سے مقامی طلب کے مطابق ایل پی جی تو ملک میں لائی جا رہی ہے، لیکن پورٹس پر موجود امپورٹ ٹرمینلز سے اس گیس کو باقاعدگی سے نہیں اٹھایا جا رہا۔

اس صورتحال نے مقامی مارکیٹ میں ممکنہ ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی قلت پیدا کرنے کے سنگین خدشات کو جنم دیا ہے۔

پہاڑی اور دور دراز علاقوں کے صارفین شدید متاثر

پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق ٹرمینلز سے گیس نہ اٹھانے کے باعث پیدا ہونے والی مصنوعی قلت کی وجہ سے خاص طور پر پہاڑی، دور دراز اور گیس نیٹ ورک سے محروم یعنی آف گرڈ علاقوں میں قیمتیں یکلخت بڑھ گئی ہیں۔

ان علاقوں میں رہنے والے شہری اپنی روزمرہ کی توانائی اور حرارت کی ضروریات کے لیے مکمل طور پر ایل پی جی پر انحصار کرتے ہیں۔

اس تمام تر صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ایل پی جی سیکٹر کے ریگولیٹر اوگرا سے کہا گیا ہے کہ وہ ذخیرہ اندوزی روکنے کے لیے قانونی اور اتھاریٹیو اقدامات کرے، ٹرمینلز سے گیس کی باقاعدہ ترسیل یقینی بنائے اور مقررہ نرخوں پر گیس کی دستیابی کے لیے سخت انفورسمنٹ کرے۔

مقامی ایل پی جی کی شفاف تقسیم کا حکومتی پلان

ایک علیحدہ بیان میں پیٹرولیم ڈویژن نے مارکیٹ کو یقین دہانی کرائی ہے کہ حکومت اس تمام تر صورتحال سے مکمل طور پر باخبر ہے اور اس کے حل کے لیے کوشاں ہے۔

بیان کے مطابق مقامی طور پر پیدا ہونے والی ایل پی جی کو ایک شفاف اور مسابقتی عمل کے ذریعے مارکیٹ میں لانا حکومت کی اولین ترجیح ہے تاکہ چند بڑی کمپنیوں کی اجارہ داری کو ختم کیا جا سکے، کیونکہ اس وقت مقامی پیداوار کا بڑا حصہ انہی محدود پلیئرز کے پاس مرکوز ہے۔

اس مقصد کے لیے ایل پی جی پالیسی 2016 کے عین مطابق ایسی تجاویز پیش کی گئی ہیں جن سے نہ صرف دور دراز اور پہاڑی علاقوں کو گیس کی بلا تعطل فراہمی ممکن ہو سکے گی بلکہ اپ اسٹریم کمپنیوں کو بھی ان کے وسائل کا مناسب معاوضہ ملے گا۔

عدالتی کارروائی اور صارفین کے مفادات کا تحفظ

پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق مقامی گیس کی شفاف تخصیص کے اس عمل میں عدالتی مقدمات اور لٹیگیشن کی وجہ سے کچھ رکاوٹیں پیش آئی ہیں، تاہم حکومت عدالتوں میں اس معاملے کی موثر پیروکاری کر رہی ہے۔

حکومت نے واضح کیا ہے کہ قانون کے مطابق تمام دستیاب قانونی آپشنز کو استعمال کرنے کا حق محفوظ رکھا گیا ہے تاکہ مارکیٹ کی کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکے۔

حکومت اس بات کے لیے مکمل پرعزم ہے کہ ایک منصفانہ اور شفاف کاروباری ماحول قائم کیا جائے اور عام صارفین کے معاشی حقوق اور مفادات کا ہر قیمت پر تحفظ یقینی بنایا جائے۔

پاکستان میں ہر سال سردیوں کی آمد سے قبل ہی قدرتی گیس کی فراہمی میں شدید کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس کے باعث گھریلو اور تجارتی صارفین کا تمام تر انحصار ایل پی جی پر شفٹ ہو جاتا ہے۔

ایل پی جی کی طلب میں ناگہانی اضافے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے چند بااثر امپورٹرز، ڈسٹری بیوٹرز اور بلیک مارکیٹرز ملی بھگت سے سپلائی چین کو متاثر کرتے ہیں۔

ماضی میں بھی دیکھا گیا ہے کہ پورٹ ٹرمینلز پر گیس کے جہاز موجود ہونے کے باوجود گیس کو جان بوجھ کر مارکیٹ میں نہیں لایا جاتا تاکہ مصنوعی قلت پیدا کر کے نوٹیفائیڈ قیمتوں کے برعکس منہ مانگے دام وصول کیے جا سکیں۔

پاکستان کا ایل پی جی سیکٹر طویل عرصے سے ساختی اور انتظام کاری کے شدید بحران کا شکار رہا ہے، جہاں ریگولیٹری اداروں کے احکامات اور گراؤنڈ پر انفورسمنٹ کے درمیان ہمیشہ ایک بڑا خلا موجود رہتا ہے۔

مزید پڑھیں:ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ، اوپن مارکیٹ میں ریٹ 440 روپے فی کلو تک پہنچ گیا

حکومت کی جانب سے 2016 کی ایل پی جی پالیسی کے تحت مقامی گیس کی شفاف تقسیم کے اقدامات بلا شبہ درست سمت میں قدم ہیں، لیکن چند بااثر کمپنیوں کا عدالتوں سے اسٹے آرڈر حاصل کرنا اور مارکیٹ کو کنٹرول کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ کارٹلائزیشن کس قدر گہری جڑیں پکڑ چکی ہے۔

اوگرا اور پیٹرولیم ڈویژن کے موجودہ سخت نوٹسز اور خطوط اس وقت تک عوام کو ریلیف فراہم نہیں کر سکتے جب تک ضلعی انتظامیہ ریٹیل لیول پر چھاپے مار کر اور پورٹ ٹرمینلز پر موجود گیس کو ہنگامی بنیادوں پر مارکیٹ میں سپلائی کروا کر واقعی بلا تعطل ترسیل یقینی نہ بنائے۔

Related Articles