نااہلی کا باب بند ، ضلع  کرک میں صحت کا انقلابی دور شروع ، ویمن اینڈ چلڈرن ہسپتال میں کام تیزی سے جاری

نااہلی کا باب بند ، ضلع  کرک میں صحت کا انقلابی دور شروع ، ویمن اینڈ چلڈرن ہسپتال میں کام تیزی سے جاری

خیبر پختونخوا میں نئے انتظامی سیٹ اپ کے قائم ہوتے ہی ضلع کرک میں دیرینہ عوامی مسائل کے حل اور ترقیاتی منصوبوں پر رفتاربھرپور ہو گئی ہے بالخصوص صحت کے شعبے میں طویل عرصے سے زیرِ التواء منصوبوں پر ہنگامی بنیادوں پر کام شروع کر دیا گیا ہے، جس سے عوام میں اطمینان کی لہر دوڑ گئی ہے۔

خیبرپختونخوا میں نئے انتظامی سیٹ اپ کے قیام کے بعد ضلع کرک میں ترقیاتی کاموں کا نیا سلسلہ باقاعدہ طور پر شروع ہو چکا ہے، صحت کے شعبے میں نمایاں اصلاحات کے تحت 35 کروڑ روپے کی لاگت سے جاری وومن اینڈ چلڈرن ہسپتال کرک کے اس اہم منصوبے پر کام کی رفتار کو انتہائی تیز کر دیا گیا ہے۔ تاکہ علاقے کی خواتین اور بچوں کو معیاری اور جدید علاج کی سہولیات مقامی سطح پر ہی میسر آ سکیں۔

لیبارٹریز اپ گریڈ ، جدیدسہولیات کی دستیابی 

 اس میگا پروجیکٹ کے تحت ہسپتال کے وارڈز میں بیڈز کی تعداد میں نمایاں اضافہ کیا جا رہا ہے، اور جدید لیبارٹریز کو مکمل طور پر اپ گریڈ کیا جا رہا ہے تاکہ مریضوں کو بہترین اور معیاری طبی ٹیسٹ کی سہولیات مقامی سطح پر ہی میسر آ سکیں۔

اس کے ساتھ ساتھ ہسپتال میں آنے والے مریضوں کو مفت اور معیاری ادویات کی بہترین سہولیات کی فراہمی کو بھی اس منصوبے کا لازمی حصہ بنایا گیا ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :تبدیلی کا فریب مک گیا ! خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت کا ڈرامہ ختم ، اپوزیشن جماعتوں کا اظہار اطمینان

  مقامی شہریوں اور سیاسی و سماجی حلقوں نے نئے سیٹ اپ کے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ وومن اینڈ چلڈرن ہسپتال کی جلد تکمیل سے ضلع کرک اور ملحقہ علاقوں کے ہزاروں خاندانوں کو پشاور یا دیگر بڑے شہروں کا سفر نہیں کرنا پڑے گا اور صحت کے شعبے میں بنیادی انقلابی تبدیلیاں رونما ہوں گی۔

پی ٹی آئی کی نااہلی کا خمیازہ عوام نے بھگتا

دوسری طرف، اگر پی ٹی آئی کے دورِ حکومت کا  جائزہ لیا جائے تو صوبے میں طویل عرصہ اقتدار میں رہنے کے باوجود اس جماعت نے صحت اور بنیادی ترقیاتی شعبوں میں وہ انقلابی کارکردگی دکھائی نہیں دی جس کے دعوے کیے جاتے رہے ہیں ۔  فنڈز کی مبینہ عدم دستیابی، انتظامی نااہلی اور منصوبہ بندی کے فقدان کی وجہ سے کرک سمیت کئی اضلاع میں اہم ترین فلاحی منصوبے سالوں التواء کا شکار رہے، جس کا خمیازہ عام عوام کو بھگتنا پڑا۔

editor

Related Articles