ایران نے کہا ہے کہ پاکستان اور قطر سمیت ثالث ممالک کے ذریعے امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ جاری ہے تاہم تہران کی اولین ترجیح موجودہ صورتحال میں اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی کا دفاع ہے۔
آسٹریا کے ایک نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان براہ راست نہیں بلکہ ثالث ممالک کے ذریعے رابطے برقرار ہیں اور دونوں جانب پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔
اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ ایران نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت 30 روز کے اندر آبنائے ہرمز میں محفوظ گزرگاہ یقینی بنانے کا وعدہ پورا کیا تاہم مقررہ مدت ختم ہونے سے پہلے ہی امریکا نے بحری جہازوں سے متعلق واقعات کو جواز بنا کر ایران پر نئے حملے شروع کر دیے۔
ایرانی ترجمان نے دعویٰ کیا کہ یہ تیسری مرتبہ ہے کہ مذاکراتی عمل کے دوران ایران پر حملے کیے گئے جس سے سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچا اور اعتماد کی فضا متاثر ہوئی۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے زور دیا کہ ایران سفارتی ذرائع کو اہمیت دیتا ہے تاہم کسی بھی مذاکراتی عمل کے ساتھ ساتھ اپنی خودمختاری، سلامتی اور قومی مفادات کے تحفظ کو اولین ترجیح دیتا رہے گا۔