سوشل میڈیا پر قوم پرست اور پاکستان تحریک انصاف سے منسوب بعض پروپیگنڈا اکاؤنٹس کی جانب سے ایک پوسٹ گردش کر رہی ہے۔ اس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ باجوڑ میں تین بھائیوں کو فتنہ الخوارج نے قتل کیا۔
پوسٹ میں اس واقعے کو خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ سے بھی جوڑا گیا ہے۔ اس کے ذریعے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ گورنر راج کے بعد صوبے میں دہشت گردی بڑھ گئی ہے۔
اصل واقعہ کیا ہے ؟
تاہم حقیقت اس کے برعکس ہے ، واقع دہشت گردی نہیں بلکہ ذاتی دشمنی کا نتیجہ بتایا گیا ہے
باجوڑ کے علاقے خار میں فائرنگ کا واقعہ پیش آیا جس میں تین بھائی حنیف اللہ، ابراہیم اور عباس زخمی ہوئے۔
زخمیوں کو علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔ حنیف اللہ اور ابراہیم زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے، جبکہ عباس زیرِ علاج رہا۔
ابتدائی اطلاعات میں واقعے کی وجہ ذاتی دشمنی بتائی گئی ہے۔ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کرنے اور ملزمان کی تلاش کی اطلاع بھی دی۔
گورنر راج سے تعلق؟
سوشل میڈیا پوسٹ کا دوسرا اہم دعویٰ یہ ہے کہ باجوڑ میں فائرنگ کا واقعہ گورنر راج کے باعث صوبے میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کا ثبوت ہے۔
تاہم کسی ایک واقعے کو گورنر راج کے نتیجے میں دہشت گردی میں اضافے کا ثبوت قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ دستیاب اطلاعات میں ایسا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا جو اس واقعے کو گورنر راج سے منسلک کرتا ہو۔
خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور امن و امان کی صورتحال سیاسی بحث کا موضوع ہیں۔ پارلیمان میں بھی اس اقدام پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اختلافات سامنے آئے ہیں۔ تاہم ان سیاسی اختلافات کو باجوڑ میں فائرنگ کے واقعے کی وجہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔