مستونگ میں سیکیورٹی فورسز کے قافلے پر حملے سے متعلق بی ایل اے کا دعویٰ جھوٹ کا پلندہ نکلا

مستونگ میں سیکیورٹی فورسز کے قافلے پر حملے سے متعلق بی ایل اے کا دعویٰ جھوٹ کا پلندہ نکلا

 بلوچستان کے  ضلع مستونگ میں سیکیورٹی فورسز کے ایک  قافلے پر بی ایل اے کی جانب سے حملے سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنیوالے دعوے  من گھڑت ، جھوٹ پر مبنی اور گمراہ کن  ہیں ۔

بی ایل اے کی جانب سے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی پوسٹ میں سیکیورٹی فورسز کے قافلے پر حملے میں 45 پاکستانی فوجیوں کو شہادت کا دعویٰ کیا ہے  جو کہ سراسر بے بنیاد اور حقیقت کے منافی ہے ۔

 پوسٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ فرنٹیئر کور (ایف سی) کے اہلکاروں کو لے کر جانیوالی گاڑیوں کے قافلے پر کوئٹہ جاتے ہوئے تین اطراف سے گھات لگا کر حملہ کیا گیا اور فوجیوں کو لے جانے والی ایک بس کو آگ لگا دی گئی جو کہ بی ایل کا خوساختہ  بے بنیاد اور من گھڑت پراپیگنڈا  ہے۔

تاہم ذرائع نے ان دعوؤں کو جعلی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ آن لائن گردش کرنے والی رپورٹس بے بنیاد پروپیگنڈہ ہیں اور زمینی صورتحال کی عکاسی نہیں کرتیں۔

 اس قسم کے جھوٹے دعووں کا مقصد صرف پروپیگنڈا پھیلانا اور علاقے میں خوف و ہراس پیدا کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :فیکٹ چیک: وزیراعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل سے منسوب خصوصی انٹرویو کا دعویٰ جھوٹ نکلا

سیکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور بروقت کارروائیوں کے باعث شرپسند عناصر کے ناپاک عزائم کو ہمیشہ ناکام بنایا گیا ہے، اور پاکستان کے طول و عرض میں امن و امان کی صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے۔

حکام نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ غیر تصدیق شدہ معلومات  شیئرکرنے سے گریز کریں اور سیکیورٹی سے متعلق واقعات سے متعلق اپ ڈیٹس کے لیے صرف سرکاری بیانات اور معتبر خبروں کے ذرائع پر انحصار کریں۔

editor

Related Articles