بالی وڈ اداکار ٹائیگر شروف ممبئی میں فائرنگ کے ایک واقعے میں بال بال بچ گئے، تاہم ان کے ڈرائیور سمیت 2افراد زخمی ہوگئے۔ واقعے کے بعد پولیس نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، جبکہ سوشل میڈیا پر لارنس بشنوئی گینگ سے منسوب ایک ویڈیو بھی سامنے آئی ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق اتوار کی شام ممبئی کے علاقے جوہو میں نامعلوم حملہ آوروں نے ٹائیگر شروف کی گاڑی پر تین سے چار گولیاں چلائیں۔ واقعے کے وقت اداکار فٹ بال کھیلنے کے بعد گراؤنڈ سے واپس جا رہے تھے اور انہیں دیکھنے کے لیے وہاں لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔
فائرنگ کے نتیجے میں ٹائیگر شروف محفوظ رہے، تاہم ان کے ڈرائیور کے بازو میں گولی لگی، جبکہ قریب موجود ایک رکشہ ڈرائیور بھی زخمی ہوگیا۔ اداکار کے والد اور معروف بالی وڈ اسٹار جیکی شروف نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ ان کا بیٹا خیریت سے ہے۔
واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ریاست مہاراشٹرا کے وزیراعلیٰ نے پولیس سے رپورٹ طلب کرلی ہے، جبکہ ممبئی پولیس نے ملزمان کا سراغ لگانے اور واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقاتی ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں۔
سوشل میڈیا پر بشنوئی گینگ سے منسوب ویڈیو، سلمان خان کے ساتھی اداکاروں کو بھی دھمکیاں
فائرنگ کے واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو گردش کر رہی ہے، جس میں ایک شخص نے لارنس بشنوئی گینگ کی نمائندگی کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ویڈیو میں انیل پنڈت نامی شخص نے دعویٰ کیا کہ ٹائیگر شروف کو پہلے بھی خبردار کیا گیا تھا۔ ویڈیو میں بالی وڈ کی ان شخصیات کو بھی دھمکیاں دی گئیں جو سلمان خان کے ساتھ کام کرتی ہیں۔
سلمان خان اور لارنس بشنوئی کی دشمنی کا پس منظر کیا ہے؟
واضح رہے کہ اپریل 2024 میں ممبئی کے علاقے باندرہ میں سلمان خان کی رہائش گاہ گلیکسی اپارٹمنٹس کے باہر موٹر سائیکل سوار 2 افراد نے فائرنگ کی تھی۔ بعد ازاں پولیس نے اس واقعے کے سلسلے میں جیل میں قید گینگسٹر لارنس بشنوئی کے بھائی انمول بشنوئی کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔
لارنس بشنوئی اس وقت بھارتی ریاست گجرات کی جیل میں قید ہے۔ اسے سلمان خان کا مخالف سمجھا جاتا ہے اور اس دشمنی کو 1998 میں راجستھان میں کالے ہرن کے غیر قانونی شکار کے مقدمے سے جوڑا جاتا ہے، جس میں سلمان خان کا نام سامنے آیا تھا۔
کالا ہرن بشنوئی برادری کے نزدیک مقدس حیثیت رکھتا ہے، جس کے باعث یہ معاملہ طویل عرصے سے تنازعے کا سبب بنا ہوا ہے۔فی الحال پولیس کی تحقیقات جاری ہیں اور فائرنگ کے اصل محرکات، حملہ آوروں کی شناخت اور سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے دعوؤں کی حقیقت جاننا باقی ہے۔