خیبر پختونخوا میں مشیر معدنیات پشاور نے محکمہ جاتی امور میں شفافیت اور بہتری لاتے ہوئے تمام لیزز کے اجراء، تجدید اور منتقلی پر پیشگی اجازت کے بغیر پابندی عائد کر دی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق محکمہ معدنیات خیبر پختونخوا میں گورننس کے نظام کو مؤثر بنانے کے لیے اہم ترین فیصلے کیے گئے ہیں۔
جاری کردہ احکامات کے تحت پیشگی اجازت اور باضابطہ اطلاع کے بغیر ہر قسم کے لیز جاری کرنے، ان کی تجدید کرنے یا انہیں منتقل کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:کوہاٹ پولیس سیاسی دباؤ کا شکار ؟ کوہاٹ میں خود کش حملہ دوسری طرف غیر قانونی مائننگ دوبارہ شروع ہو گئی
اس کے ساتھ ساتھ اب کسی بھی لیز کو کینسل کرنے یا اس میں توسیع دینے کے لیے بھی متعلقہ مجاز اتھارٹی کی پیشگی اجازت کو لازمی قرار دے دیا گیا ہے تاکہ من مانیوں کا دروازہ بند کیا جا سکے۔
غیر قانونی مائننگ اور تاخیری فیصلوں کے خلاف سخت اقدامات
دستاویز کے مطابق محکمہ معدنیات کے اندر روزگار کی فراہمی اور سرمایہ کاری کے لیے بے پناہ گنجائش موجود ہے، تاہم ماضی میں پی ٹی آئی کے دور حکومت میں غیر قانونی مائننگ، ترقیاتی منصوبوں میں سست روی اور فیصلوں میں غیر ضروری تاخیر کے باعث متعدد مسائل پیدا ہوئے ہیں۔
ان رکاوٹوں اور انتظامی سستی کا خاتمہ کرنے کے لیے اب پالیسیوں کو سخت کیا جا رہا ہے تاکہ صوبے کی معدنی دولت کو درست سمت میں استعمال کیا جا سکے۔
انتظامی امور، تقرریوں اور کمیٹیوں کا ضابطہ کار
انتظامی کنٹرول کو مزید مستحکم کرنے کے لیے یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ بغیر اجازت کے فوری تقرریوں، تبادلوں، ڈیپوٹیشن اور اضافی چارج دینے کے عمل پر بھی پابندی ہوگی۔
جہاں تک متعلقہ کمیٹیوں کا تعلق ہے، تو منرل ٹائٹل کمیٹی اور منرل اسسمنٹ کمیٹی قانون کے مطابق اپنا کام جاری رکھیں گی۔
تاہم منرل ٹائٹل کمیٹی کے لیے یہ لازم ہوگا کہ وہ کسی بھی اجلاس سے قبل اپنا ایجنڈا مشیر معدنیات کے دفتر کو لازمی طور پر ارسال کریں۔
اس کے علاوہ، اجلاس کے دوران بغیر کسی ٹھوس اور معقول وجہ کے کسی بھی غیر اعلانیہ ایجنڈے کو زیر بحث نہیں لایا جائے گا۔
عدالتی احکامات کی پاسداری


