’آزاد ڈیجیٹل‘ کی خبر پر وزیراعظم کا سخت نوٹس، کوہاٹ میں سونے کی غیر قانونی مائننگ کے خلاف گرینڈ آپریشن، ہیوی مشینری ضبط

’آزاد ڈیجیٹل‘ کی خبر پر وزیراعظم کا سخت نوٹس، کوہاٹ میں سونے کی غیر قانونی مائننگ کے خلاف گرینڈ آپریشن، ہیوی مشینری ضبط

’آزاد ڈیجیٹل‘ کی خبر پر وزیراعظم کی ہدایت کے بعد، کوہاٹ میں سونے کی غیر قانونی کان کنی اور خونی تصادم میں ملوث بااثر سیاسی مافیا کے خلاف پولیس نے گرینڈ آپریشن کرتے ہوئے بھاری مشینری قبضے میں لے لی ہے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی جانب سے سخت ایکشن لیے جانے کے بعد 14 ستمبر کو ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) کوہاٹ کی قیادت میں بھاری نفری نے علاقے میں بھرپور کریک ڈاؤن کیا۔

ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی اس مشترکہ کارروائی کے دوران متعدد افراد کو گرفتار کر کے کان کنی کے غیر قانونی ٹھکانے مکمل طور پر مسمار کر دیے گئے۔

یہ بھی پڑھیں:کوہاٹ، سونے کی کان کنی میں استعمال ہونے والی 80 فیصد ہیوی مشینری حکومتی شخصیات کی ملکیت نکلی

قبل ازیں درابو کچ اور تھانہ گمبت کے علاقے میں سونے کی تلاش کے تنازع پر دو سیاسی گروہوں میں خونی تصادم ہوا تھا۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے 2 ایف آئی آرز درج کی ہیں، جن میں انسدادِ دہشتگردی کی دفعہ 7 شامل کی گئی ہے، جبکہ سابق ایم پی اے امجد آفریدی کو بھی مقدمے میں نامزد کیا گیا ہے۔

بااثر شخصیات کی پشت پناہی اور ہیوی مشینری کا انکشاف

اس خونریز تصادم میں حکمران جماعت ’پی ٹی آئی‘ کے صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم کے بھتیجے (مجاہد آفریدی اور صادق آفریدی) اور سابق ایم پی اے امجد آفریدی کے گروہ آمنے سامنے آئے، جس کے نتیجے میں کئی افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے۔

حیران کن طور پر تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس غیر قانونی دھندے میں ملوث 80 فیصد سے زیادہ ایکسیویٹرز اور بھاری مشینری کسی عام مافیا کی نہیں، بلکہ مبینہ طور پر کوہاٹ سے منتخب حکومتی اراکین اور صوبائی کابینہ کے مشیروں کی ملکیت ہے۔

اطلاعات کے مطابق صوبائی وزیر قانون اور سابق رکنِ اسمبلی دونوں ہی درابو کچ اور قمر کے علاقوں میں اس غیر قانونی سرگرمی کی مبینہ سرپرستی کر رہے تھے۔

صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ اور اس کے ملحقہ ندی نالوں میں ریت سے سونا نکالنے کا عمل یعنی ’پلاسر گولڈ مائننگ‘ ایک عرصے سے جاری ہے۔

معدنیات نکالنے کے اس عمل کے لیے کوئی واضح اور مستقل ضابطہ کار موجود نہ ہونے کا فائدہ اٹھا کر مقامی بااثر سیاسی شخصیات اور مافیاز نے ان قیمتی وسائل پر قبضہ جما لیا تھا۔

یہی قبضے کی جنگ بالآخر مفادات کے خونی تصادم میں بدل گئی، جس کے بعد ’آزاد ڈیجیٹل‘ نے اس معاملے کو بے نقاب کیا اور اعلیٰ حکام کو حرکت میں آنا پڑا۔

واضح رہے کہ اس کارروائی کو ریاستی رٹ کی بحالی کے لیے ایک انتہائی اہم اور ناگزیر قدم قرار دے رہے ہیں۔

’آزاد ڈیجیٹل‘ کی خبر پر براہِ راست وزیراعظم کا نوٹس لینا اس بات کا غماز ہے کہ قومی وسائل کی لوٹ مار میں ملوث عناصر، چاہے وہ کتنے ہی بااثر حکومتی عہدیدار کیوں نہ ہوں، اب قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکیں گے۔

واضح رہے کہ اس کریک ڈاؤن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے محض عارضی پولیس آپریشنز کافی نہیں، بلکہ حکومت کو فوری طور پر جامع قانون سازی کرنی ہوگی تاکہ مستقبل میں مافیاز کو سر اٹھانے کا موقع نہ مل سکے۔

Related Articles