کوہاٹ پولیس سیاسی دباؤ کا شکار ؟ کوہاٹ میں خود کش حملہ دوسری طرف غیر قانونی مائننگ دوبارہ شروع ہو گئی

کوہاٹ پولیس سیاسی دباؤ کا شکار ؟ کوہاٹ میں خود کش حملہ دوسری طرف غیر قانونی مائننگ دوبارہ شروع ہو گئی

کوہاٹ ایک ہی وقت میں دو بڑے سکیورٹی چیلنجز کی زد میں آگیا ہے ایک طرف کوہاٹ پولیس لائنز کے قریب خودکش حملے میں پولیس اہلکاروں سمیت قیمتی جانوں کا نقصان ہوا ہے تو دوسری جانب چند روز قبل غیر قانونی سونے کی مائننگ کے تنازع پر ہونے والی خونریز جھڑپ کے بعد دوبارہ مائننگ سرگرمیوں کی اطلاعات نے انتظامیہ اور پولیس کی کارروائی پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

18 ستمبر کو کوہاٹ کی پرانی پولیس لائنز کے قریب دھماکے میں کم از کم 16 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں پانچ پولیس اہلکار بھی شامل ہیں، جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے۔ پولیس کے مطابق ایک دھماکا خیز گاڑی کے ذریعے حملہ کیا گیا جبکہ بعد ازاں پولیس اور حملہ آوروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا۔

یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب کوہاٹ پہلے ہی غیر قانونی گولڈ مائننگ کے تنازع کے باعث شدید کشیدگی کا سامنا کر رہا ہے۔

گزشتہ دنوں تھانہ گمبٹ کی حدود میں درابو کچ کے علاقے میں مبینہ غیر قانونی گولڈ مائننگ کے معاملے پر دو گروپوں کے درمیان فائرنگ کا واقعہ پیش آیا، جس میں چار افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے۔ پولیس کے مطابق واقعے کے بعد مقدمات درج کیے گئے اور تحقیقات شروع کی گئیں۔

اس سے قبل شکردرہ اور رحمان آباد کے علاقوں میں مبینہ غیر قانونی گولڈ مائننگ کے خلاف انتظامیہ کے آپریشن کے بعد ڈپٹی کمشنر کوہاٹ کے قافلے پر فائرنگ کی گئی۔ فائرنگ سے سرکاری گاڑیوں کو نقصان پہنچا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ واقعے کے بعد پولیس نے سرچ آپریشن شروع کیا۔

مائننگ کے تنازع پر ہونے والی خونریز جھڑپ کے بعد پولیس نے کریک ڈاؤن شروع کیا اور مختلف افراد کے خلاف مقدمات درج کیے گئے۔ بعض رپورٹوں میں سیاسی شخصیات یا ان سے وابستہ افراد کے نام بھی سامنے آئے ہیں، تاہم ان الزامات کی حتمی ذمہ داری یا کسی سیاسی شخصیت کی مائننگ میں مداخلت کا تعین تفتیش اور قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ہی ہوسکے گا۔

یہ بھی پڑھیں:کلٹس گاڑی خریدنے والوں کے لیے بڑی خوشخبری، بنک کی نئی آفر آ گئی

یہاں اہم سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ اگر غیر قانونی مائننگ کے خلاف کارروائی کی گئی تھی تو اس کے باوجود مبینہ طور پر مائننگ سرگرمیاں دوبارہ کیسے شروع ہوئیں؟ کیا انتظامیہ اور پولیس کو مقامی بااثر عناصر کی جانب سے کسی دباؤ کا سامنا ہے، یا قانون نافذ کرنے والے ادارے اس معاملے میں مؤثر اور مستقل کارروائی کرنے میں مشکلات کا شکار ہیں؟

اس سوال کو مزید اہمیت اس لیے بھی حاصل ہوتی ہے کہ غیر قانونی مائننگ کے خلاف کارروائی کرنے والے سرکاری قافلے پر بھی فائرنگ ہوچکی ہے۔ ایسے واقعات کے بعد پولیس اور انتظامیہ کے لیے ایک طرف امن و امان برقرار رکھنا اور دوسری طرف غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف کارروائی کرنا ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔

تاہم سیاسی دباؤ کے دعوے کی آزادانہ تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی۔ اس لیے اصل معاملہ یہ ہے کہ متعلقہ ادارے واضح کریں کہ غیر قانونی مائننگ کے خلاف اب تک کیا کارروائی ہوئی، کتنی مشینری قبضے میں لی گئی، کتنے مقدمات درج ہوئے، کتنے افراد گرفتار ہوئے اور آیا کارروائی کے بعد مائننگ مکمل طور پر بند ہوئی یا نہیں۔

کوہاٹ میں خودکش حملے نے سکیورٹی صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے جبکہ مائننگ کے تنازع نے انتظامی رٹ، قانون کے یکساں نفاذ اور مقامی امن و امان کے حوالے سے الگ سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔

اب نظریں پولیس، ضلعی انتظامیہ اور صوبائی حکومت کی جانب سے اٹھائے جانے والے اگلے اقدامات پر ہیں۔ اہم سوال یہی ہے کہ دہشت گردی کے خطرے اور غیر قانونی مائننگ کے تنازع، دونوں سے بیک وقت نمٹنے کے لیے کیا مؤثر اور شفاف حکمت عملی اختیار کی جاتی ہے۔

Qaisar Mirza
editor

Related Articles