خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا سوشل میڈیا پر پھیلایا جانے والا منظم پروپیگنڈا بھی بے نقاب ہو گیا ہے اور اس حوالے سے پی ٹی آئی کی لوٹ مار کے اصل حقائق بھی سامنے آگئے ہیں۔
صوبہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور 11 رکنی کونسل کے قیام کے بعد جب پی ٹی آئی کے اقتدار کا سورج غروب ہوا تو اس نے قومی اداروں کے خلاف انتہائی منفی پروپیگنڈا شروع کر دیا ہے۔
آزاد ریسرچ ٹیم کے مطابق خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد پاکستان تحریک انصاف سے وابستہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی جانب سے ایک مربوط اور منظم پروپیگنڈا مہم شروع کی گئی ہے۔
اس بیانیے میں یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ صوبے میں ایمرجنسی کا نفاذ معدنی وسائل کی لوٹ مار کے لیے کیا گیا ہے۔
اس پروپیگنڈے کو تقویت دینے کے لیے پی ٹی آئی جعلی ہینڈلرز کی جانب سے امریکی چارج ڈی افیئرز کی ایک پرانی ویڈیو کلپ کو بار بار ری ٹریگر کر کے پوسٹ کیا جا رہا ہے، جس میں وہ بلوچستان، خیبر پختونخوا اور پاکستان کے دیگر حصوں میں معدنی پوٹینشل کے بارے میں بات کر رہی ہیں۔
آزاد فیکٹ چیک کے مطابق حقائق اور اعداد و شمار سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ یہ بیانیہ سراسر بدنیتی، بے بنیاد معلومات اور عوامی جذباتی اشتعال انگیزی پر مبنی ہے۔
پی ٹی آئی دور کے لائسنسز اور دریائے سندھ میں پلیسر گولڈ کا استحصال
ذرائع کے مطابق حقائق سامنے آئے ہیں کہ پاکستان تحریک انصاف کے اقتدار میں آنے سے قبل خیبر پختونخوا میں کل مائننگ لائسنسز کی تعداد 1000 سے بھی کم تھی، تاہم پی ٹی آئی نے اپنے 13 سالہ دورحکومت کے دوران اپنے من پسند سیاستدانوں، ٹھیکیداروں اور سہولت کاروں کو 4719 سے زیادہ مائننگ لائسنسز جاری کیے۔
ان فرنٹ مینوں اور کمپنیوں نے خام مال کا بے دریغ اور بے رحمانہ استحصال کیا نہ کہ فنشڈ یا ریفائنڈ پروڈکٹس بنائیں۔
اس کی ایک واضح مثال دریائے سندھ کے کنارے چلنے والے سینکڑوں ایکسکویٹرز ہیں، جو پی ٹی آئی کے وزرا کی ملکیتی کمپنیوں کے ذریعے دریائے سندھ کی سیاہ ریت سے پلیسر گولڈ اور دیگر نایاب معدنیات نکالنے کی غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں۔
اگر یہ لوگ خیبر پختونخوا کے اتنے ہی ہمدرد ہوتے تو ان 13 سالوں میں ان معدنیات کے ذریعے خیبر پختونخوا کی تقدیر بدل چکے ہوتے نہ کہ خود غیر قانونی مائننگ میں ملوث ہوتے۔
پاک فوج کا کردار اور بویاڈیگن میں ایف ڈبلیو او کا پروجیکٹ
تحقیقاتی رپورٹ سے معلوم ہوا کہ پاک فوج کی جانب سے معدنیات پر قبضے کے پی ٹی آئی کے تمام الزامات بھی لغو ثابت ہوئے ہیں اور یہ الزامات ذاتی پرخار اور دہشتگردوں کے ساتھ گٹھ جوڑ کا شاخسانہ ہیں۔
پورے خیبر پختونخوا میں قومی ادارے کے پاس صرف ایک مائننگ لائسنس موجود ہے، جو بویاڈیگن کے مقام پر ’ایف ڈبلیو او‘ یعنی فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کی جانب سے چلایا جانے والا مائن پروجیکٹ ہے۔
یہ کان نہ صرف مقامی لوگوں کو روزگار فراہم کرتی ہے بلکہ ملکی میڈیا بھی متعدد بار اس کا دورہ کر کے شفافیت کا جائزہ لے چکا ہے۔
اس پروجیکٹ کا مقامی ترقی اور کارپوریٹ سوشل رسپانسبلٹی (سی ایس آر) کے حوالے سے انتہائی شاندار اور نمایاں ریکارڈ موجود ہے اور اس کے علاوہ پاک فوج کا معدنیات یا ان کے انتظام و انصرام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
معدنی شعبے کی پائیدار ترقی کے لیے ضروری عوامل
واضح رہے کہ پاکستان بشمول خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں معدنیات کا بے پناہ اور شاندار پوٹینشل موجود ہے۔ تاہم اس پوٹینشل سے قوم اور مقامی آبادی اسی وقت فائدہ اٹھا سکتی ہے جب اس شعبے کی ترقی کے لیے چند بنیادی اور لازمی تقاضے پورے کیے جائیں۔
ان میں مناسب اور شفاف سرمایہ کاری کا حصول، ماہر اور تربیت یافتہ افرادی قوت کی دستیابی، مؤثر، جدید اور شفاف قانونی و ریگولیٹری فریم ورک کا قیام، خام مال برآمد کرنے کے بجائے فنشڈ اور ریفائنڈ مصنوعات تیار کرنا، محفوظ اور مستحکم ماحول کی فراہمی شامل ہیں۔
اسی طرح لاجسٹکس، ٹرانسپورٹ اور مضبوط سپلائی چینز کا قیام، ماحولیاتی تحفظ کے قوانین اور اقدامات پر سختی سے عملدرآمد بھی اس شعبے کی ترقی کے لیے ناگزیر ہیں۔
ان تمام اقدامات کے لیے ایک پیشہ ورانہ، منظم اور ایماندارانہ حکمتِ عملی کی ضرورت ہوتی ہے نہ کہ ایسے زبانی اور سیاسی بیانیے کی جو عوام کو گمراہ کرنے اور پی ٹی آئی کی طویل مدتی غیر قانونی مائننگ ایکسپلوریشن کو تحفظ دینے کے لیے گھڑا گیا ہو۔
ٹیموں کی بھیجنے اور حقائق سامنے لانے کی ضرورت


