فرانس میں مہنگائی، بڑھتے اخراجات اور تعلیمی اداروں میں سہولتوں کی کمی کے خلاف ملک گیر احتجاج کے بعد چار شہروں میں رات کے وقت کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔ مظاہروں کے دوران توڑ پھوڑ اور دکانوں میں لوٹ مار کے واقعات سامنے آئے ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق وزیراعظم سباستیاں لیکورنو کی ہدایت پر شمالی فرانس کے چار شہروں میں پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ ان شہروں میں لِیل، دوئے، وٹینی اور دَنین شامل ہیں۔
حکومت نے یہ اقدامات مزید بدامنی روکنے اور کاروباری مراکز کو نقصان سے بچانے کے لیے کیے ہیں۔ حکام کا مقصد متاثرہ علاقوں میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانا ہے۔
چار شہروں میں کرفیو
رپورٹ کے مطابق لِیل، دوئے، وٹینی اور دَنین میں پیر اور منگل کی درمیانی راتوں کے دوران رات آٹھ بجے سے صبح چھ بجے تک جزوی کرفیو نافذ کیا گیا ہے۔
ان پابندیوں کے ذریعے رات کے اوقات میں نقل و حرکت محدود کرنے اور مزید توڑ پھوڑ روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ کرفیو کے نفاذ سے متعلق فراہم کردہ معلومات میں پابندیوں کی تمام تفصیلات بیان نہیں کی گئیں۔
فرانسیسی حکومت نے متاثرہ کاروباروں کے تحفظ اور معمولات زندگی بحال کرنے کے لیے مزید اقدامات کا اعلان بھی کیا ہے۔ حکام کے مطابق تشدد میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
وزیراعظم کا سخت مؤقف
فرانسیسی وزیراعظم سباستیاں لیکورنو نے کہا ہے کہ حکومت امن و امان کی بحالی کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے ضرورت پڑنے پر ہنگامی حالت نافذ کرنے کا اختیار استعمال کرنے کا عندیہ بھی دیا۔
حکومت کی جانب سے یہ مؤقف ایسے وقت سامنے آیا ہے جب احتجاج کے دوران بعض مقامات پر مظاہرین اور بدامنی پھیلانے والے افراد کی سرگرمیوں نے صورتحال کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔
دکانوں، سرکاری عمارتوں اور گاڑیوں کو نقصان پہنچانے کے واقعات کے بعد کاروباری مراکز کے تحفظ کو بھی اہمیت دی جا رہی ہے۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
احتجاج کی وجوہات
فرانس میں حالیہ احتجاج مہنگائی، روزمرہ اخراجات میں اضافے اور تعلیمی اداروں میں سہولتوں کی کمی کے خلاف کیا گیا۔ مظاہرین نے ان مسائل پر اپنی تشویش کا اظہار کیا اور ملک گیر سطح پر احتجاجی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔
احتجاج کے دوران بعض مقامات پر صورتحال پُرتشدد ہوگئی۔ نقاب پوش افراد نے دکانوں، سرکاری عمارتوں اور گاڑیوں کو نشانہ بنایا جبکہ معروف برانڈز کے اسٹورز میں لوٹ مار کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔
حکومت پر دباؤ بڑھ گیا
فرانس میں حالیہ بدامنی نے حکومت کے لیے امن و امان برقرار رکھنے کا چیلنج بڑھا دیا ہے۔ کرفیو کے نفاذ اور مزید اقدامات کے اعلان سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکام صورتحال کو قابو میں رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
دوسری جانب مظاہرین نے آئندہ ہفتے مزید احتجاج کی کال بھی دے رکھی ہے۔ اس پیش رفت کے باعث حکومت کو احتجاجی سرگرمیوں اور عوامی تحفظ کے درمیان توازن برقرار رکھنے کے لیے مزید اقدامات کرنا پڑ سکتے ہیں۔