پاک افغان کشیدگی،روس نے پاکستان کا موقف تسلیم کر لیا، بڑی پیشکش

پاک افغان کشیدگی،روس نے پاکستان کا موقف تسلیم کر لیا، بڑی پیشکش

روس نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ثالثی کی پیشکش کردی ہے۔ روسی سفیر البرٹ خوریف نے کہا ہے کہ ماسکو دونوں ممالک کے اختلافات کم کرنے میں کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے یہ بات انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد میں پاکستان اور روس کے تعلقات پر منعقدہ گول میز مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ روسی سفیر نے پاک افغان کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا اور امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک کے درمیان صورتحال بہتر ہوگی۔

روس کا کردار

البرٹ خوریف کے مطابق روس پاکستان اور افغانستان کے درمیان اختلافات کم کرانے میں مدد دینے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماسکو خطے میں کشیدگی کے اثرات سے آگاہ ہے اور اس معاملے میں اپنا کردار ادا کرسکتا ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :سیکیورٹی فورسز نے ضلع کرم میں پاک افغان سرحد پر دراندازی ناکام بنا دی ، 12 خوارج اور افغان طالبان ہلاک،نائب صوبیدار وطن پر قربان

روسی سفیر نے امید ظاہر کی کہ اسلام آباد اور کابل کے درمیان تناؤ میں کمی آئے گی۔ انہوں نے پاک افغان سرحد دوبارہ کھلنے کی امید بھی ظاہر کی۔

  پیشکش ایسے وقت سامنے آئی ہے جب سرحد کی مسلسل بندش دونوں ممالک کے تعلقات اور علاقائی رابطوں کے حوالے سے اہم مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ تاہم دستیاب بیان میں ثالثی کے طریقہ کار یا کسی باضابطہ مذاکراتی عمل کی تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔

تجارت متاثر ہونے کا خدشہ

روسی سفیر نے کہا کہ پاک افغان سرحد کی مسلسل بندش سے پاکستان کے تجارتی روابط بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ  اس صورتحال کے اثرات وسطی ایشیائی ممالک اور روس کے ساتھ پاکستان کی تجارت پر بھی پڑ رہے ہیں۔

پاکستان کے لیے افغانستان کے راستے علاقائی تجارتی رابطوں کی اہمیت کے تناظر میں سرحدی بندش ایک اہم معاملہ ہے۔ روسی سفیر نے سرحد کھلنے اور کشیدگی کم ہونے کی امید ظاہر کرتے ہوئے اس مسئلے کی علاقائی اہمیت اجاگر کی۔

 افغانستان کے ساتھ روسی روابط

رپورٹ کے مطابق روس نے گزشتہ سال افغانستان کی طالبان حکومت کو تسلیم کیا تھا۔ رواں سال مئی میں روس اور افغانستان نے فوجی اور تکنیکی تعاون کے معاہدے پر بھی دستخط کیے۔

اس معاہدے کی مکمل تفصیلات عام نہیں کی گئیں۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ طالبان کے بارے میں روس کا مؤقف بعض معاملات میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے تنقیدی نقطہ نظر سے مختلف رہا ہے۔

ان اختلافات کے باوجود اسلام آباد نے پاک افغان کشیدگی کے معاملے پر روس کے ممکنہ کردار کے لیے دروازہ کھلا رکھا ہے۔ اس تناظر میں روسی سفیر کی تازہ پیشکش علاقائی سفارت کاری کے حوالے سے اہم پیش رفت ہے۔

پاکستان کا مؤقف

دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے اپنی ہفتہ وار بریفنگ میں کہا تھا کہ پاکستان افغانستان اور علاقائی سلامتی کے معاملات پر روس کے ساتھ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

یہ بیان پاکستان اور روس کے درمیان علاقائی امور پر رابطوں کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ تاہم ترجمان کے بیان میں ثالثی کی پیشکش سے متعلق کسی مخصوص فیصلے یا باضابطہ درخواست کی تفصیلات شامل نہیں تھیں۔

 یہ بھی پڑھیں :پاک افغان بارڈر پر کشیدگی: پاک فوج کے افغان طالبان پر تابڑ توڑ حملے جاری

روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی نے بھی اسلام آباد میں ہونے والے گول میز مباحثے سے خطاب کیا۔ انہوں نے دونوں ممالک کے دوطرفہ تعلقات کی وسعت اور عملی رکاوٹیں دور کرنے کی کوششوں کو اجاگر کیا۔

ثالثی کی پیشکش کے بعد کیا ہوگا؟

سرحد کی دوبارہ بحالی اور دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی علاقائی تجارت کے لیے بھی اہم سمجھی جارہی ہے۔ روس نے اس معاملے میں کردار ادا کرنے کی آمادگی ظاہر کی ہے، جبکہ آئندہ پیش رفت کا انحصار متعلقہ فریقوں کے ردعمل اور سفارتی رابطوں پر ہوگا۔

editor

Related Articles