ٹیکنالوجی کی دنیا کے دو بڑے نام ایپل اور میٹا، جو برسوں سے صارفین کی نجی معلومات اور مستقبل کی کمپیوٹنگ کے معاملے پر ایک دوسرے کے مخالف رہے ہیں، اب مصنوعی ذہانت کے شعبے میں مل کر کام کر رہے ہیں۔
امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیوس کی رپورٹ کے مطابق، دونوں کمپنیوں نے میٹا کے طاقت ور اوپن ویٹ اے آئی ماڈل کو ایپل کے جدید میک کمپیوٹرز پر چلانے کے لیے اشتراک کیا ہے۔ اس پیش رفت کو سلیکان ویلی کے2 دیرینہ حریفوں کے تعلقات میں اہم تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔
دونوں کمپنیاں اب بھی کمپیوٹرز، اسمارٹ ڈیوائسز اور مستقبل کی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں ایک دوسرے کی حریف ہیں، لیکن مصنوعی ذہانت کی تیزی سے بڑھتی ہوئی اہمیت نے انہیں مشترکہ مفادات پر تعاون کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔
میٹا کے شعبۂ مصنوعی ذہانت کے سربراہ الیگزینڈر وانگ نے اس تعاون پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ ’امی اور ابو ایک بار پھر آپس میں اچھے طریقے سے پیش آ رہے ہیں۔‘
میٹا کا نیا اے آئی ماڈل کیا خاصیت رکھتا ہے؟
میٹا نے اپنا نیا ماڈل میوز اسپارک اوپن متعارف کرایا ہے، جسے کمپنی اپنے طاقت ور مصنوعی ذہانت کے نظاموں میں شمار کرتی ہے۔ میٹا کے مطابق، یہ امریکا میں تیار کردہ دستیاب اوپن ویٹ اے آئی ماڈلز میں سب سے طاقت ور ہے۔
اوپن ویٹ ماڈلز کی خاص بات یہ ہے کہ ان کے تربیت یافتہ وزن دستیاب ہوتے ہیں، جنہیں متعلقہ لائسنس کی شرائط کے تحت ڈاؤن لوڈ کرکے اپنے کمپیوٹرز یا سرورز پر چلایا جا سکتا ہے۔ اس طرح صارفین اور سافٹ ویئر بنانے والوں کو ہر کام کے لیے کسی بڑی کمپنی کی کلاؤڈ سروس پر انحصار نہیں کرنا پڑتا۔
میٹا کے اس نئے ماڈل میں 816 ارب پیرامیٹرز ہیں، جو اس کے حجم اور پیچیدگی کو ظاہر کرتے ہیں۔ تاہم، زیادہ پیرامیٹرز ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ ماڈل ہر کام میں لازماً دوسرے ماڈلز سے بہتر ہوگا۔
ایپل کے میک کمپیوٹرز پر کیسے چلے گا؟
میٹا نے ایپل کے ساتھ مل کر اس ماڈل کو ایم 5 الٹرا چپس والے دو یا چار میک اسٹوڈیو کمپیوٹرز کو باہم منسلک کرکے چلانے کا تجربہ کیا۔ اس کام میں ایپل کا مشین لرننگ فریم ورک ایم ایل ایکس استعمال کیا گیا۔
یہ تجربہ اس لیے اہم ہے کہ اتنے بڑے اے آئی ماڈل کو چلانے کے لیے عموماً بڑی کمپیوٹنگ صلاحیت درکار ہوتی ہے۔ متعدد کمپیوٹرز کو ملا کر استعمال کرنے سے یہ دکھانے کی کوشش کی گئی کہ جدید ہارڈویئر پر بڑے اے آئی نظام مقامی طور پر بھی چلائے جا سکتے ہیں۔
اس طریقے سے کمپنیوں اور ڈویلپرز کو اپنے ڈیٹا اور اے آئی نظاموں پر زیادہ کنٹرول مل سکتا ہے، اگرچہ اس کے لیے مناسب ہارڈویئر، میموری اور تکنیکی مہارت ضروری ہوگی۔
اوپن ویٹ اے آئی سے صارفین کو کیا فائدہ ہوگا؟
رپورٹ کے مطابق، میٹا کا ماڈل مفت ڈاؤن لوڈ کے لیے دستیاب ہوگا اور اس کا لائسنس تجارتی استعمال کی اجازت دے گا۔ اس سے سافٹ ویئر بنانے والوں اور کلاؤڈ سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کو اپنی ضروریات کے مطابق اے آئی نظام تیار کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
اس شعبے میں صرف میٹا ہی سرگرم نہیں۔ امریکی کمپنی اینویڈیا نے بھی اپنے نیموٹران ماڈلز کے نئے ورژن پیش کیے ہیں، جبکہ ریفلیکشن اے آئی اور فرانس کی میسٹرال جیسی کمپنیاں بھی اوپن ویٹ اے آئی ماڈلز پر کام کر رہی ہیں۔
ان کوششوں کا ایک اہم مقصد اے آئی کی تیاری اور استعمال کی لاگت کم کرنا، ڈویلپرز کو زیادہ آزادی دینا اور چینی اے آئی نظاموں کے مقابلے میں متبادل فراہم کرنا ہے۔
ایپل اور میٹا کی پرانی دشمنی کیوں مشہور ہے؟
ایپل کے ایگزیکٹو چیئرمین ٹم کک اور میٹا کے چیف ایگزیکٹو مارک زکربرگ کے درمیان صارفین کی رازداری اور کاروباری طریقوں پر کئی برس سے اختلافات رہے ہیں۔
2018 میں فیس بک کے کیمبرج اینالیٹیکا اسکینڈل کے دوران ٹم کک سے پوچھا گیا کہ اگر وہ زکربرگ کی جگہ ہوتے تو کیا کرتے۔ کک نے جواب دیا تھا کہ وہ اس صورتِ حال میں ہوتے ہی نہیں۔ زکربرگ نے بعد میں اس تبصرے کو انتہائی سطحی قرار دیا تھا۔
2021 میں ایپل کی جانب سے صارفین کی معلومات کی نگرانی اور اشتہاری ٹریکنگ سے متعلق پابندیاں متعارف کرانے کے بعد دونوں کمپنیوں کے اختلافات مزید نمایاں ہوئے۔ ان تبدیلیوں نے میٹا کے اشتہاری کاروبار کو بھی متاثر کیا۔
لیکن اب مصنوعی ذہانت کی بڑھتی ہوئی اہمیت نے اس تعلق میں ایک نیا رخ پیدا کر دیا ہے۔
اے آئی کی دوڑ میں حریف کمپنیاں ایک دوسرے کے قریب کیوں آ رہی ہیں؟
ایپل اور میٹا کا تعاون اس بڑی تبدیلی کی ایک مثال ہے جس میں ٹیکنالوجی کمپنیاں اپنے کاروباری اختلافات کے باوجود مشترکہ مفادات کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، ایپل کے سابق عہدیدار ڈینیئل گراس، جو اب میٹا سے وابستہ ہیں، نے دونوں کمپنیوں کو قریب لانے میں کردار ادا کیا۔ الیگزینڈر وانگ کے مطابق، دونوں ادارے کئی ماہ سے اس منصوبے پر کام کر رہے تھے۔
اسی طرح ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس سے انتھروپک کمپیوٹنگ صلاحیت حاصل کر رہی ہے، جبکہ مائیکروسافٹ بھی اپنی حریف اے آئی کمپنی انتھروپک میں سرمایہ کاری اور اس کے کلاڈ ماڈلز کو اپنی مصنوعات میں شامل کرنے پر کام کر رہی ہے۔
یہ تمام مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ اے آئی کی عالمی دوڑ میں اب صرف مقابلہ ہی اہم نہیں رہا، بلکہ کمپیوٹنگ وسائل، جدید ماڈلز اور تکنیکی صلاحیتوں تک رسائی بھی بڑی کمپنیوں کی ترجیحات میں شامل ہو چکی ہے۔
ایپل اور میٹا کا نیا اشتراک اسی بدلتی ہوئی حکمت عملی کا حصہ ہے، جہاں آج کے حریف بھی مستقبل کی ٹیکنالوجی میں اپنی جگہ مضبوط بنانے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کر سکتے ہیں۔