گوگل اپنی ای میل سروس جی میل میں مصنوعی ذہانت پر مبنی فیچر ’ہیلپ می رائٹ‘ کو مزید بہتر بنانے کی تیاری کر رہا ہے۔ اس تبدیلی کا مقصد صارفین کے لیے جیمنائی کی مدد سے ای میلز تیار کرنا اور ان میں ترمیم کرنا آسان بنانا ہے۔
اینڈرائیڈ اتھارٹی کی ایک رپورٹ کے مطابق، گوگل اس فیچر کے انٹرفیس کو نئے انداز میں پیش کرنے پر کام کر رہا ہے، جس سے صارفین کو ای میل لکھنے کے لیے الگ سے ڈرافٹ تیار کرنے اور پھر اسے کمپوزر میں منتقل کرنے کی ضرورت کم ہو جائے گی۔
جی میل میں نیا فیچر کیسے کام کرے گا؟
اس وقت ’ہیلپ می رائٹ‘ کے ذریعے صارفین مصنوعی ذہانت کی مدد سے ای میل کا ابتدائی مسودہ تیار کرتے ہیں۔ اس کے بعد وہ اپنی ضرورت کے مطابق اس میں تبدیلیاں کرتے ہیں اور پھر اسے ای میل کمپوزر میں شامل کرتے ہیں۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق، مجوزہ نئے انٹرفیس میں جی میل کے کمپوزر کے نیچے ’ڈسکرائب یور میسج‘ کے نام سے ایک پرامپٹ باکس شامل کیا جا رہا ہے۔ صارفین اس باکس میں مختصر طور پر بتا سکیں گے کہ وہ کس نوعیت کی ای میل لکھنا چاہتے ہیں۔ اس کے بعد جیمنائی صارف کی ہدایات کے مطابق براہ راست کمپوزر کے اندر ای میل کا مسودہ تیار کرنے میں مدد دے گا۔ اس طرح ای میل لکھنے کا عمل زیادہ آسان اور تیز ہو سکتا ہے۔
فیچر کب دستیاب ہوگا؟
اینڈرائیڈ اتھارٹی کے مطابق، نئے انٹرفیس کے آثار جی میل کی ایک حالیہ اپ ڈیٹ کے کوڈ میں دیکھے گئے ہیں۔ تاہم، یہ فیچر ابھی تیاری کے مرحلے میں ہے اور عام صارفین کے لیے دستیاب نہیں۔
گوگل کی جانب سے اس تبدیلی کے اجرا کی حتمی تاریخ بھی سامنے نہیں آئی۔ اگر یہ فیچر متعارف کرا دیا گیا تو جی میل صارفین کے لیے مصنوعی ذہانت کی مدد سے ای میلز لکھنا پہلے سے زیادہ سہل ہو سکتا ہے۔