پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے غیر قانونی آن لائن مواد کے خلاف شکایات درج کرانے کے طریقہ کار کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ شکایت میں متعلقہ مواد کی شناخت کے لیے مکمل معلومات فراہم کرنا ضروری ہے۔
پی ٹی اے کے مطابق ہر شکایت پر کارروائی ممکن نہیں ہوتی، کیونکہ بعض شکایات میں ضروری تفصیلات موجود نہیں ہوتیں، جبکہ کچھ معاملات پہلے ہی زیرِ تفتیش ہوتے ہیں یا ان کے لیے دستاویزات اور شواہد کا تفصیلی جائزہ لینا ضروری ہوتا ہے۔
اتھارٹی نے یہ وضاحت وفاق اور دیگر فریقین کے خلاف وقاص ناصر کی جانب سے دائر آئینی درخواست نمبر 4163 آف 2026 کے جواب میں عدالت میں جمع کرائی۔ اس مقدمے کا تعلق بچوں کو سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل ماحول کے مضر اثرات سے محفوظ رکھنے سے ہے۔
پی ٹی اے کے مطابق ایسی شکایات مسترد کی جاسکتی ہیں جن میں غیر قانونی مواد کی شناخت کے لیے کافی معلومات موجود نہ ہوں۔ اس کے علاوہ پہلے سے درج شکایات، زیرِ تفتیش معاملات اور ایسے کیسز جن میں تفصیلی دستاویزی یا زبانی شواہد درکار ہوں، بھی مخصوص حالات میں قبول نہیں کیے جاسکتے۔
اتھارٹی نے یہ بھی بتایا کہ شکایت کنندہ کا متعلقہ معاملے سے براہِ راست متاثر ہونا اہم ہوسکتا ہے، جبکہ گمنام شکایات بھی مقررہ قواعد کے تحت مسترد کی جاسکتی ہیں۔
شکایت مسترد ہونے پر کیا ہوگا؟
پی ٹی اے کے مطابق متعلقہ قواعد کے تحت شکایت مسترد کیے جانے کی صورت میں شکایت کنندہ کو اس بارے میں آگاہ کرنا ضروری ہے۔ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ شکایات کا جائزہ مقررہ طریقہ کار اور متعلقہ قوانین کے مطابق لیا جاتا ہے۔
پی ٹی اے نے وضاحت کی کہ ایچ ٹی ٹی پی ایس استعمال کرنے والی ویب سائٹس اور پلیٹ فارمز پر موجود مواد کو بلاک کرنے کے لیے بعض صورتوں میں انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں یا متعلقہ پلیٹ فارم کے منتظمین سے تعاون درکار ہوسکتا ہے۔
اتھارٹی کے مطابق مواد بلاک کرنے کے تکنیکی طریقے اس کی نوعیت، متعلقہ قوانین اور دستیاب تکنیکی انتظامات پر منحصر ہوتے ہیں۔
پی ٹی اے نے واضح کیا کہ غیر قانونی آن لائن مواد کے خلاف مؤثر کارروائی کے لیے شکایت میں اتنی تفصیلات ضرور ہونی چاہئیں کہ متعلقہ مواد کی شناخت اور اس کا جائزہ لیا جاسکے۔