پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر آج ایران کا دورہ کریں گے، جہاں وہ ایرانی حکام سے اہم ملاقاتیں کریں گے۔ دورے کے دوران دوطرفہ تعاون، خطے کی صورتحال اور ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کے ممکنہ ثالثی کردار پر بات چیت متوقع ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز نے ایرانی میڈیا اور ایک پاکستانی عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر منگل کو تہران پہنچیں گے، جہاں ایرانی حکام کے ساتھ اہم علاقائی اور سفارتی امور زیرِ بحث آئیں گے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان رواں سال ایران اور امریکا کے درمیان رابطوں اور ثالثی کی کوششوں میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق دورے کا ایک اہم پہلو خطے میں کشیدگی کم کرنے اور جاری تنازعات کے حل کے لیے سفارتی کوششوں کو آگے بڑھانا ہوگا۔ ایران اور امریکا کے درمیان رابطوں میں پاکستان کے کردار کے تناظر میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ایرانی قیادت سے ملاقاتوں کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
رائٹرز کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ایرانی رہنماؤں کے درمیان موسمِ گرما میں ہونے والی سابقہ بات چیت میں کشیدگی کم کرنے، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور خطے میں جاری تنازع کے جلد خاتمے کے لیے اقدامات پر گفتگو ہوئی تھی۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے ایک اہم سمندری گزرگاہ ہے، اس لیے اس کے حوالے سے پیدا ہونے والی صورتحال کے اثرات خطے سے باہر بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان اختلافات اور علاقائی کشیدگی کے تناظر میں اس گزرگاہ کی بحالی اور امن و استحکام کے لیے سفارتی رابطے اہمیت رکھتے ہیں۔
پاکستان کے لیے یہ دورہ ایران کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو آگے بڑھانے کے ساتھ خطے میں امن کے لیے جاری سفارتی کوششوں پر تبادلۂ خیال کا موقع بھی ہوگا۔ پاکستان کے ایران اور امریکا دونوں کے ساتھ رابطوں کے باعث ثالثی کی کوششوں میں اس کا کردار اہم سمجھا جا رہا ہے، تاہم اس دورے کے نتیجے میں کسی پیش رفت کا انحصار متعلقہ فریقوں کے مؤقف اور مذاکرات پر ہوگا۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورے کے حوالے سے ایرانی حکام سے ہونے والی ملاقاتوں کی تفصیلات اور کسی ممکنہ پیش رفت کے بارے میں مزید معلومات سامنے آنے کا انتظار ہے