قدرت کی دنیا میں بقا کے ایسے حیرت انگیز طریقے موجود ہیں جو سائنس دانوں کو بھی حیران کردیتے ہیں۔ سرخ چیونٹیوں کا سیلاب سے بچنے کے لیے ایک دوسرے سے جڑ کر زندہ کشتی بنانا بھی ایسا ہی ایک منفرد عمل ہے۔
جب شدید بارش یا سیلاب کا پانی ان کے زیرِ زمین ٹھکانوں میں داخل ہوتا ہے تو یہ چیونٹیاں اپنی جان بچانے کے لیے فوری طور پر ایک دوسرے کی ٹانگیں اور جبڑے پکڑ لیتی ہیں۔ اس طرح ہزاروں چیونٹیاں مل کر ایک تیرتا ہوا ڈھانچہ بنا لیتی ہیں، جو پانی کی سطح پر انہیں زندہ رہنے میں مدد دیتا ہے۔
اس عمل کی خاص بات یہ ہے کہ چیونٹیاں انفرادی طور پر بچنے کے بجائے اجتماعی طور پر کام کرتی ہیں۔ ان کے جسم ایک دوسرے سے جڑ کر ایک لچکدار ساخت بناتے ہیں، جو پانی کی لہروں کے ساتھ حرکت کرسکتی ہے۔ بعض حالات میں ایسی کالونیاں طویل عرصے تک پانی پر تیرتی رہ سکتی ہیں۔
سائنسی طور پر اس صلاحیت میں چیونٹیوں کے جسم کی سطح، ایک دوسرے کو مضبوطی سے پکڑنے کی صلاحیت اور ان کے درمیان پھنسنے والی ہوا اہم کردار ادا کرتی ہے۔ فائر اینٹس کے جسم پر موجود باریک بال اور پانی سے متعلق ان کی جسمانی خصوصیات بھی اس عمل میں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔
اس زندہ کشتی میں کالونی کی بقا کے لیے ملکہ چیونٹی اور لاروا کی حفاظت بھی اہم ہوتی ہے، کیونکہ ملکہ نئی نسل پیدا کرتی ہے اور لاروا کالونی کے مستقبل سے جڑا ہوتا ہے۔ تاہم، ملکہ ہمیشہ کشتی کے سب سے اوپر موجود ہوتی ہے، یہ بات ہر صورت میں درست نہیں؛ چیونٹیوں کی ترتیب حالات کے مطابق بدل سکتی ہے۔
جب یہ تیرتا ہوا مجموعہ کسی خشک جگہ، کنارے یا درخت تک پہنچتا ہے تو چیونٹیاں دوبارہ منتشر ہوکر نئی پناہ گاہ تلاش کرسکتی ہیں۔
سرخ چیونٹیوں کا یہ اجتماعی طرزِ عمل اس بات کی مثال ہے کہ چھوٹے جاندار بھی مل کر ایسے پیچیدہ مسائل کا حل نکال سکتے ہیں جن کا سامنا انہیں قدرتی آفات کے دوران کرنا پڑتا ہے۔