اسرائیل کے سخت گیر وزیرِ مالیات بتسلئیل سموٹریچ نے ترکیہ اور پاکستان کے خلاف یونان سے اتحاد مضبوط کرنے اور ’مکہ الائنس‘ سے منسلک ممالک کو نشانہ بنانے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
اسرائیل کے مذہبی صیہونی پارٹی کے سربراہ اور انتہائی دائیں بازو کے متنازع وزیرِ مالیات بتسلئیل سموٹریچ نے خطے کی تازہ ترین صورت حال پر گفتگو کرتے ہوئے مکہ الائنس کے اہم ارکان ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
انہوں نے علاقائی حکمت عملی پر بات کرتے ہوئے زور دیا کہ اسرائیل کو پاکستان، ترکیہ اور ان تمام ممالک کے خلاف یونان کے ساتھ اپنے دفاعی و سیاسی تعلقات اور اتحاد کو مضبوط کرنا چاہیے جو تل ابیب کی پالیسیوں کے مخالف ہیں۔
اسرائیلی وزیر نے ترکیہ کی عسکری صلاحیتوں بالخصوص اس کی بحری قوت پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انقرہ کے پاس ایک انتہائی وسیع اور بڑی بحریہ موجود ہے، جس کی صلاحیتوں کا باریک بینی سے جائزہ لینا انتہائی ضروری ہے۔
سعودی عرب اور ولی عہد محمد بن سلمان نشانہ
سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے عمل پر بات کرتے ہوئے سموٹریچ نے واضح کیا کہ ریاض انتظامیہ کو کسی بھی قسم کی بلا مشروط رعایت نہیں دینی چاہیے۔
انہوں نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جب تک سعودی عرب کی جانب سے اسرائیل کو کوئی عمل بدل نہ ملے، تب تک تل ابیب کو بھی کچھ نہیں دینا چاہیے۔
انہوں نے اس مؤقف پر زور دیا کہ سعودی ولی عہد بار بار اسرائیل کو چیلنج نہ کریں اور رعایتوں کی توقع نہ رکھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بغیر کسی ضمانت کے رعایتیں دینا ایک بڑی سیاسی غلطی ہے۔
فلسطینیوں کی جبری بے دخلی اور ’حتمی حل‘ کا متنازع نظریہ
غزہ کی پٹی کی مستقبل کی صورت حال پر اپنے انتہا پسندانہ نظریات کا اظہار کرتے ہوئے سموٹریچ نے کہا کہ وہ غزہ میں مقیم فلسطینیوں کو عرب یا دیگر دیگر ممالک میں جبری طور پر منتقل کرنے کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔
انہوں نے اس عمل کو ‘جبری بے دخلی کی حوصلہ افزائی’ کا نام دینے کے بجائے بین الاقوامی سطح پر 78 سال بعد عرب اور دیگر ممالک میں ‘پناہ گزینوں کے مسئلے کا حتمی حل اور ان کی نئی تنظیمِ نو’ قرار دیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ غزہ کے عوام کی امیدوں کو توڑنا ضروری ہے، جس کے لیے زمینوں پر قبضہ قائم رکھنا، غزہ کو بحال نہ ہونے دینا اور لوگوں کو تدریجی طور پر علاقہ چھوڑنے پر مجبور کرنا شامل ہے۔
لبنان کی سرزمین پر غصبانہ قبضہ اور امریکا سے توقعات
جنوبی لبنان کی صورت حال پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل جن لبنانی علاقوں پر عسکری کنٹرول حاصل کر چکا ہے، ان میں سے کم از کم کچھ حصے کو باقاعدہ طور پر اسرائیل میں ضم کر لیا جائے۔
انہوں نے دھمکی دی کہ اگر حزب اللہ نے دوبارہ حملے کیے تو اسرائیلی افواج بیروت کی جانب پیش قدمی جاری رکھیں گی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل کے موجودہ جغرافیائی حدود سیکیورٹی نقطہ نظر سے کافی نہیں ہیں اور ڈونلڈ ٹرمپ کو یہ بات سمجھانا آسان ہو گا کہ اسرائیل کو قابلِ دفاع سرحدوں کی ضرورت ہے۔
امریکا کے آنے والے وسط المدتی انتخابات کے حوالے سے انہوں نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ریپبلکن پارٹی کی کامیابی کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے انہیں اسرائیل کا بہترین دوست قرار دیا۔
مشرقِ وسطیٰ کا جغرافیائی و دفاعی توازن
اسرائیلی کابینہ کے سینیئر ارکان کی جانب سے پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب جیسے اہم مسلم ممالک کو ایک ساتھ ہدف بنانا اور یونان کے ساتھ اتحاد پر زور دینا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اسرائیل خطے میں ایک نیا بلاک تشکیل دینے کی کوششوں میں ہے تاکہ وہ مسلم ممالک کے ممکنہ اشتراکِ عمل کا مقابلہ کر سکے۔
ترکیہ کی بحری طاقت اور پاکستان کی ایٹمی و عسکری صلاحیتوں کو ایک ساتھ جوڑ کر دیکھنا تل ابیب کے سیکیورٹی خدشات اور اس کی جارحانہ خارجہ پالیسی کو عکاس کرتا ہے۔
علاوہ ازیں لبنان کی سرزمین کے کچھ حصوں کو غصب کرنے اور فلسطینیوں کی جبری منتقلی جیسے بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کے تقاضوں کو یکسر نظر انداز کر کے خطے میں وسیع تر تسلط قائم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، جو کہ پہلے سے غیر مستحکم مشرقِ وسطیٰ میں امن و امان کی صورت حال کو مزید خطرناک موڑ پر لا سکتی ہیں۔